Al-Risala · July 1995 · page 13

The Relationship between Faith and Reason

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۳

کی گردش کے قوانین معلوم کئے ۔ اس کا یہ مطالعہ زیادہ تر آسمانی اجرام (astronomical bodies) تک محدود تھا۔ اس کو دوسرے لفظوں میں عالم کبیر (macro-world) کا مطالعہ کہہ سکتے ہیں۔ عالم کبیر میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ چیزوں کو دیکھا اور ناپا اور تولا جاسکے۔ اس بنا پر فوری تاثر کے تحت بہت سے لوگوں کا یہ ذہن بن گیا کہ حقیقت قابل مشاہدہ ہے اور صحیح اور جائز استدلال وہی ہے جو مشاہداتی دلائل پر مبنی ہو۔ اسی تصور کے تحت وہ فلسفہ بنا جس کو عام طور پر پازیٹیوزم (positivism) کہا جاتا ہے۔

مگر بیسویں صدی کے رُبع اول میں وہ حقائق دریافت ہوئے جنہوں نے مذکورہ ابتدائی نظریات کا جڑ سے خاتمہ کر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عالم ظاہر کے اندر زیادہ بڑے پیمانے پر ایک عالم غیر ظاہر موجود ہے۔ اس عالم غیر ظاہر کو سمجھنا یا اس پر دلیل قائم کرنا صرف بالواسطہ انداز میں ممکن ہے۔ یعنی کسی چیز کے اثرات (effects) کو دیکھ کر اس چیز کی موجودگی کا علم حاصل کرنا۔

اس انکشاف نے سارے معاملے کو بدل دیا۔ انسانی علم کی رسائی جب تک عالم کبیر تک محدود تھی وہ مذکورہ غلط فہمی میں مبتلا رہا۔ مگر جب انسانی علم کی رسائی عالم صغیر (micro-world) تک پہنچ گئی تو علمی صورتحال اپنے آپ بدل گئی۔

اب معلوم ہوا کہ براہ راست استدلال کا میدان بہت محدود ہے۔ نئے حقائق جو انسان کے علم میں آ رہے تھے وہ اتنے لطیف تھے کہ صرف استنباط یا بالواسطہ استدلال ہی وہاں قابل عمل نظر آتا تھا۔ مثال کے طور پر جرمن سائنس داں رانٹجن (Whilhelm Conrad Rontgen) نے ۱۸۹۵ میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ اس کے سامنے کے شیشہ پر کچھ اثر (effect) ظاہر ہو رہا ہے جب کہ اس کے تجربہ اور اس شیشہ کے درمیان کوئی معلوم رشتہ موجود نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک ناقابل مشاہدہ شعاع (invisible radiation) ہے جو ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ اس کی نامعلوم نوعیت (unknown nature) کی بنا پر رانٹجن نے اس کا نام اکسرے (X-rays) رکھ دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (19/1058)

بیسویں صدی میں اکسرے جیسی بہت سی چیزیں دریافت ہوئیں جو براہ راست انسانی مشاہدہ میں نہیں آرہی تھیں۔ تاہم ان کے اثرات جو علم میں آئے ان کی بنا پر ان کے وجود سے انکار کرنا بھی ممکن

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page