The Relationship between Faith and Reason
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴
نہ تھا۔ ان جدید تحقیقات کے نتیجہ میں، جس طرح علم کے دوسرے شعبوں میں تبدیلیاں ہوئیں، اسی طرح اس نے علم منطق میں بھی تبدیلیاں کیں۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ استنباطی استدلال کو بھی ایک معقول استدلالی معیار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ کیوں کہ اس کے بغیر اکسریز کی تشریح نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس کے بغیر ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کو ماننا ممکن نہ تھا۔ اس کے بغیر ڈارک میٹر کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وغیرہ موجودہ زمانہ میں معیار استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول (valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید دریافت شدہ نظریات ثابت کئے جا رہے تھے، عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقائد بھی پوری طرح ثابت ہو رہے تھے۔ اس کے بعد وہ استدلالی فرق ختم ہو گیا جو پہلے دونوں کے درمیان پایا جاتا تھا۔ ایک سوال کا جواب مقالہ نگار نے آخر میں لکھا ہے کہ میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کہ بہت سے ممتاز اور فکرمند ارباب علم ہیں جو اس کو ناممکن پاتے ہیں کہ وہ میرے مذہبی عقائد سے اتفاق کریں، اگر چہ وہ اس موضوع کو انتہائی سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ لے رہے ہوتے ہیں۔ اور میں اس بات کا اقرار کروں گا کہ دنیا میں اتنی زیادہ برائیاں اور اتنی زیادہ مصیبتیں اس عقیدہ کے خلاف شہادت دیتی ہیں کہ یہاں کوئی ذات مطلق خدا ہے جو اپنی مخلوقات سے محبت کرتا ہے:
And I have to acknowledge that the existence of so much evil and suffering in the world counts against any vision of an all-powerful and loving God. (p. 7)
میں کہوں گا کہ برائی ایک اضافی لفظ ہے۔ کوئی بظاہر برائی صرف اس وقت برائی ہے جب کہ اس کی توجیہ نہ کی جاسکتی ہو ۔ ڈاکٹر ایک مریض کے جسم پر نشتر چلاتا ہے۔ جج ایک مجرم کو سولی پر چڑھانے کا حکم نافذ کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک ظلم ہے۔ مگر ہم اس کو بر انہیں کہتے ۔ کیوں ۔ صرف اس لئے کہ ہمارے پاس ڈاکٹر اور جج کے فعل کی معقول توجیہ موجود ہے۔ یہی معاملہ اس برائی کا ہے جس کی طرف مقالہ نگار نے اشارہ کیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہاں جو برائی ہے وہ صرف انسانی معاشرہ میں ہے، ساری کائنات میں نہیں ہے۔ انسان کی محدود دنیا کو چھوڑ کر جو وسیع کائنات ہے، وہ انتہائی معیاری ہے۔ وہ مکمل طور پر نقص اور
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues