The Relationship between Faith and Reason
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵
خرابی سے پاک ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ انسانی دنیا میں کیوں برائی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کو جاننا ہوگا۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ ہی وہ واحد کسوٹی ہے جس پر جانچ کر اس کی نوعیت کو متعین کیا جاسکتا ہے۔
خدا کا تخلیقی منصوبہ جو اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بتایا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کو آزمائش (ٹسٹ) کے لئے رکھا گیا ہے۔ اسی آزمائش کے ریکارڈ کے مطابق ہر آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آزمائش کی اس مصلحت ہی کی بنا پر آدمی کو یہاں آزادی دی گئی ہے۔ اگر آدمی کو آزادی نہ دی جائے تو آزمائش کی بات بالکل بے معنی ہو جائے گی۔ مذکورہ برائی دراصل اسی آزادی کی قیمت ہے۔ خدا ان انسانوں کا انتخاب کرنا چاہتا ہے جو آزادی پانے کے باوجود با اصول اور پابند زندگی (disciplined life) گزاریں۔ ایسے انسانوں کے انتخاب کے لئے بہر حال آزادی کا ماحول بنانا ہوگا۔ اگرچہ آزادی کے اس ماحول کی بنا پر کچھ لوگ ظلم بھی کریں گے۔ مگر یہ ایک ناگزیر قیمت ہے جس کو دئے بغیر وہ تخلیقی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا جس سے بہتر تخلیقی منصوبہ اس دنیا کے لئے قابل تصور نہیں۔
موجودہ دنیا صرف اس وقت بے معنی دکھائی دیتی ہے جب کہ اس کو آخرت کے بغیر ایک مستقل دنیا کے طور پر دیکھا جائے ۔ مگر جب ہم موجودہ دنیا کو آخرت کی دنیا سے ملا کر دیکھتے ہیں تو سارا معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔ اب وہ انتہائی بامعنی بھی ہو جاتی ہے اور انتہائی قابل قدر بھی۔ اعلان ۱- اگست ۱۹۹۵ کا الرسالہ " سفر نامہ اسپین " پر مشتمل ہوگا۔ یہ سو صفحہ کا ہو گا اور اس کی قیمت فی شمارہ دس روپے ہوگی۔
۲- ستمبر ۱۹۹۵ کے شمارہ میں ان شاء اللہ ایک مفصل مضمون یکساں سول کوڈ کے بارہ میں شامل ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues