Al-Risala · July 1995 · page 17

روحانیت کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۷

اس لئے وہ اس کو مطمئن کرنے والا بھی نہیں۔

یہ مسئلہ اصولی طور پر ادراک حقیقت کا مسئلہ ہے نہ کہ سادہ طور پر صرف ادراک ذات کا مسئلہ۔ انسان اگر خود کامل حقیقت ہوتا تو وہ کبھی تلاش کی نفسیات کا حامل نہ ہوتا۔ تلاش کی نفسیات خود انسان کے لاشعور کا حصہ ہے۔ پھر اگر لاشعور کوئی کامل وجود ہے تو وہ ہمیشہ تلاش کی نفسیات میں کیوں مبتلا رہتا ہے۔ جب کہ تلاش کی نفسیات متلاشی کے ناقص ہونے کی علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر خود کامل وجود ہوتا تو وہ کبھی تلاش کی فطرت لے کر پیدا نہ ہوتا۔ تمام انسان کا تلاش کی فطرت کے ساتھ پیدا ہونا اس بات کا ایک داخلی ثبوت ہے کہ انسان اپنی ذات میں کوئی کامل وجود نہیں۔ وہ یقینی طور پر ایک غیر کامل وجود ہے۔ اور یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ انسان کی روحانی تلاش کا نشانہ اس کی اپنی ذات نہیں ہو سکتا۔ روحانیت کا دوسرا نظریہ، بنیادی طور پر، وہ ہے جو فلسفہ وحدت الوجود (monism) کے تحت پیدا ہوا ۔ وحدت الوجود کا نظریہ، تفصیلات سے قطع نظر، یہ ہے کہ تمام موجودات ایک ہی اصل کے مختلف مظاہر ہیں۔ انسان اور جو کچھ انسان کے ماورا ہے، سب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ عالم موجودات وحدت کا ظہور ہے نہ کہ تعدد کا ظہور۔ ایک فلسفی نے ہمہ اوست کے اس نظریہ کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے:

The knower and the known are one. God and I, we are one in knowledge, and there is no distinction between us. (12/787)

اس نظریہ کے مطابق روحانیت کا مطلب، سادہ طور پر، یہ ہے کہ جزو اپنے کل کو جاننا چاہے تاکہ آخر کار وہ اس کو دریافت کر کے اس میں شامل ہو جائے۔

روحانیت کا یہ دوسرا نظریہ علمی طور پر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اگرچہ فلسفہ اور مذہب دونوں حلقوں میں یہ نظریہ بہت زیادہ مقبول رہا ہے۔ مگر کوئی بھی شخص یا کوئی بھی کتب و فکرا ایسا نہیں جس نے اس نظریہ کے حق میں کوئی واقعی دلیل دی ہو۔

روحانیت کی تلاش کو جزو کی طرف سے کل کی تلاش بتانا موجودہ صورت میں قابل غور نہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ انسان کی نوعیت فی الواقع یہی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page