روحانیت کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۸
کہ وہ ایک حقیقتِ کلیی کا جزو یا دانش ہے، جب خود یہ ابتدائی بات ثابت نہ ئی ہو تو اس کی بنیاد پر رہ وحانیت کی فلسفیانہ تعبیر کیوں کر صحیح ہو سکتی ہے۔
ہمہ اوست کے حق میں اب تک جتنی بھی باتیں کہی گئی ہیں وہ یا تو صرف لفظی بیان کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یا اگر کسی نے کوئی دلیل دینے کی کوشش کی ہے تو وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صرف تمثیل ہے۔ "دنیا کی تمام چیزیں ایک حقیقتِ کل کا مختلف ظہور ہیں" محض ایک لفظی بیان ہے، اور کسی کا لفظی بیان کبھی دلیل کا بدل نہیں ہو سکتا۔
تمثیلی دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ سمندر سے ایک قطرہ اگر نکال لیا جائے تو وہ قطرہ بھی اپنی نوعیت میں چھوٹا سمندر ہو گا۔ اسی طرح انسان حقیقت کے وسیع سمندر کا ایک چھوٹا سا قطرہ ہے۔ یہ محض ایک مثال ہے اور کوئی مثال کبھی کسی حقیقت کو ثابت نہیں کرتی۔ کسی ثابت شدہ حقیقت کی مزید تفہیم کے لئے ایک مثال دی جا سکتی ہے۔ مگر خود حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے مثال دینا سراسر غیر علمی اور غیر منطقی ہے۔
"ہمہ اوست" کے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے دو میں سے ایک دلیل لازمی طور پر ضروری ہے۔ یا تو سائنسی تحقیق سے اس کا ثبوت فراہم ہوا ہو۔ یا یہ کہ الہامی مذہب میں حقیقی طور پر اس کے حق میں کوئی دلیل موجود ہو۔ مگر یہ نظریہ نہ تو سائنس سے ثابت ہوتا ہو اور نہ الہامی مذہب میں اس کے حق میں کوئی واقعی دلیل پائی جاتی ہے۔
ایسی حالت میں جو مدرسہ فکر روحانی تلاش کو ہمہ اوست کی اصطلاحوں میں بیان کرتا ہے وہ بلاشبہ ایک بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اس نظریہ کی پشت پر نہ علم انسانی کی تصدیق موجود ہے اور نہ وحی الہی کی تصدیق۔
روحانی تلاش کا مطلب، اسلامی نقطہ نظر سے، یہ ہے کہ بندہ اپنے خدا سے مربوط ہونا چاہے۔ وہ صلة العبد برتبہ کے مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اسلامی روحانیت در اصل خدا کی معرفت ہے۔ خدا کی معرفت سے کسی انسان کو قلب و دماغ کی سطح پر جو چیز حاصل ہوتی ہے اسی کو اسلامی روحانیت کہا جاتا ہے۔
یہاں دوبارہ اسلامی روحانیت کے دو مدرسہ فکر بن گئے ہیں۔ ایک کو قرآنی مدرسہ فکر کہا
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues