Al-Risala · July 1995 · page 23

Why did the Kuffar not like Prophet Muhammad?

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۳

حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اس کی طرف مصیبتوں کو اس طرح بھیج دیتا ہے جیسے ڈھلوان کی طرف سیلاب کا پانی۔ میں مسلمانوں کے موجودہ معاملہ کو اسی حدیث کے ذیل میں شمار کرتا ہوں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور آرنلڈ ٹوائن بی نے اس کو بہت اچھی طرح ثابت کیا ہے کہ وہی قوم ترقی کرتی ہے جو دباؤ کے حالات سے دوچار ہو۔ دباؤ کے حالات ہمیشہ قوموں کو ابھارنے کا سبب بنتے ہیں۔ جیسے کہ صلیبی جنگوں میں مسیحی قوموں کی شکست نے انہیں دوبارہ زیادہ طاقت ور بنا کر اٹھایا۔ یہی معاملہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ یہ چیلنج انشاء اللہ مسلمانوں کے لئے احیاء نو کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

اس اجتماع میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ ان کی طرف سے بہت سے سوالات کئے گئے، ایک بچے نے انگریزی میں یہ سوال لکھ کر دیا:

Why did the Kuffar not like Prophet Muhammad?

میں نے کہا کہ اس لئے کہ پیغمبر اسلام ان کی خواہش کے خلاف بولتے تھے۔ آج بھی کسی کے خلاف بولا جائے تو وہ بھی آپ کا اسی طرح مخالف ہو جائے گا جس طرح وہ لوگ مخالف بن گئے۔ امریکہ کی تاریخ کے بارہ میں ایک کتاب دیکھی۔ یہ کتاب ۱۹۸۹ میں چھپی تھی اور وہ ۹۵۰ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کا نام تھا :

The Story of America, by John A. Garraty.

اس کو پڑھتے ہوئے ایک مقام پر نظر سے گزرا کہ ۵ اکتوبر ۱۹۷۳ء کو جب کہ یہودیوں کا مقدس دن تھا، مصر اور شام نے دوبارہ اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ اسی دوران اوپیک نے جو عربوں کے کنٹرول میں تھی، امریکہ، جاپان، مغربی یورپ کو اس انتقام میں تیل کی سپلائی بند کر دی کہ انہوں نے اسرائیل کی مدد کی تھی۔ اس کا اثر امریکی صارفین پر نہایت گہرا پڑا۔ گیسولین پر راشن لگ گیا۔ سارے امریکہ میں گیس پمپ پر کار کی لمبی لائن لگنے لگی۔ عربوں کے پیدا کردہ تیل کے اس بحران نے امریکیوں کو بتایا کہ یہ پابندی جاری رہی تو بیشتر عوام کی اقتصادیات اور طرز زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی: This Arab oil crisis caused Americans to realize that an extended ban would threaten the economy and life style of most people. (p. 863)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page