Al-Risala · July 1995 · page 22

سفر نامہ امریکہ - ۳

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲

برعکس یہ ہے کہ ہر انسان مسٹر دشمن ہے۔ اس تصور نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سلوک دوسرے لوگوں سے غیر اسلامی بنا دیا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کے تمام معاملات بگڑ کر رہ گئے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا : آپ ایڈجسٹمنٹ کا جو نظریہ پیش کرتے ہیں اس کو انڈیا میں کتنے لوگ مانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا ہی میں نہیں ساری دنیا کے تمام مسلمان میرے ہم خیال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ ذاتی مسائل میں ہر آدمی ایڈجسٹمنٹ ہی کے اصول پر زندگی گزار رہا ہے۔ حتی کہ آپ خود بھی۔ کوئی آدمی اگر ایڈجسٹمنٹ نہ کرے تو زندگی گزارنا ہی اس کے لئے ناممکن ہو جائے گا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ لوگ ڈبل اسٹینڈرڈ بنے ہوئے ہیں۔ ذاتی معاملات میں وہ ایڈجسٹمنٹ کے اصول پر چلتے ہیں اور جب ملت کے موضوع پر لکھنا یا بولنا ہو تو وہ فوراً ٹکراؤ کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔

ایک بار میں صغیر اسلم صاحب کے کمرہ میں داخل ہوا۔ وہ قرآن ہاتھ میں لئے ہوئے اس کو ۔ پڑھ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ قرآن فہمی کی کنجی کیا ہے۔ اس کی ایک ہی کنجی ہے اور وہ ہے ابن تیمیہ کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنا کہ یا معلم ابراہیم علمنی میں نے کہا کہ قرآن واحد کتاب ہے جس کے مصنف سے آپ ہر وقت کنسلٹ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ مصنف قرآن کے ساتھ آپ کے ربط کا یقینی ذریعہ یہی دعا ہے۔

۲۹ دسمبر کی شام کو مسٹر صغیر اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں کچھ اعلی تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے کچھ احادیث کا درس دیا۔ ان احادیث کا تعلق اسلام کی روح اور اس کی بنیادی اسپرٹ سے تھا۔ ڈاکٹر سلمان ندوی بھی اس اجتماع میں موجود تھے۔ انھوں نے ساؤتھ افریقہ کے مسلمانوں کے دینی حالات بتائے جو بہت سبق آموز تھے۔

آخر میں سوال و جواب ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر جگہ غیر قوموں کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ مسلم امت کی بڑی مایوس کن تصویر ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ ظلم کو میں چیلنج کے روپ میں دیکھتا ہوں۔ اس لئے جس چیز سے لوگ مایوسی کا تاثر لے رہے ہیں اس میں مجھے امید کی روشنی دکھائی دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page