Al-Risala · July 1995 · page 25

The Story of America, by John A. Garraty.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۵

بات انھوں نے یہ بتائی کہ جاپان امریکہ سے بہت بڑی مقدار میں لوہے کے ٹکڑے (scraps) خریدتا ہے۔ یہ ٹکڑے بڑے بڑے جہازوں میں لاد کر یہاں سے جاپان جاتے ہیں۔ ان جہازوں میں کارخانے بھی لگے ہوتے ہیں۔ چنانچہ سمندر کے اندر دورانِ سفر ہی میں ان ٹکڑوں کو چادر میں تبدیل کر لیا جاتا ہے۔ اس سے انھیں ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سفر کا وقت مزید استعمال ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس قسم کی چادروں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہے۔ ان کو سمندر میں مفت کا پانی وافر مقدار میں مل جاتا ہے جس سے وہ بنی ہوئی انتہائی گرم چادروں کو ٹھنڈا کر سکیں۔ یہ ہے ایک کام کے دوران دوسرا کام کرنا۔

یہاں جو لوگ تھے ان میں سے ایک مسٹر شیپر د دادا بھائی تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آج کل مسلمانوں کے خلاف ہر جگہ سازشیں ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کو فنا کرنے کی تدبیر کی جا رہی ہے۔ مسٹر ادا بھائی نے کہا: پھر ہم نے کیا گھاس کھا رکھی ہے۔ آخر ہماری سمجھ کہاں چلی گئی ہے۔ وہ ایکسپلائٹ کرنا چاہتے ہیں تو ہم ایکسپلائٹ کیوں ہو جاتے ہیں۔ وہ سازش کرتے ہیں تو ہم ان کی سازش کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔

مسٹر اعظم سجاد قریشی سے ملاقات ہوئی۔ وہ مینجمنٹ کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جدید مینجمنٹ میں لگاتار ترقی (continuous improvement) کا اصول ہے۔ جاپان کی ترقی اسی اصول کو اختیار کر کے ہو رہی ہے۔ وہ لوگ مسلسل سوچتے رہتے ہیں کہ مزید ہم کیا نئی بات نکالیں۔ ہم اور کون سی بہتری پیدا کریں۔ اس طرح ان کا نظام برابر آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ لگاتار ترقی کا یہی اصول دین میں بھی ہے۔ مومن کا ایمان ایک اضافہ پذیر چیز ہے۔ وہ اللہ کے ذکر، قرآن وحدیث کے مطالعہ، کائناتِ خداوندی میں غور و فکر سے ربانی غذائیں لے کر برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اضافہ کا یہ عمل مومن کی شخصیت میں موت کے آخری لمحہ تک جاری رہتا ہے۔ ایک موقع پر میں نے بخاری کی یہ حدیث سنائی کہ ایک دیہاتی شخص مدینہ آیا۔ اس نے مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا۔ صحابہ اس کو مارنے کے لئے دوڑے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو۔ اور پیشاب کی جگہ پر پانی لے کر بہا دو۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لئے اٹھائے گئے ہو، مشکل پیدا کرنے کے لئے نہیں اٹھائے گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page