Al-Risala · July 1995 · page 26

The Story of America, by John A. Garraty.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۶

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں اگر کوئی شخص پیشاب کر دے یا اور کوئی گندگی ڈال دے۔ مثلاً وہ خنزیر کو مسجد میں ڈال دے۔ یا ہولی کا رنگ پھینک دے تو ایسی حالت میں مسلمان کو کیا کرنا چاہئے۔ مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس کو مسجد کی بے حرمتی کا مسئلہ نہ بنائیں بلکہ وہ اس کو مسجد کی صفائی کا مسئلہ بنائیں۔ اس طرح کے کسی واقعہ کو اگر مسجد کی بے حرمتی کا سوال بنا دیا ئے تو اس سے فساد برپا ہوتا ہے اور اگر اس کو مسجد کی صفائی کا سوال بنایا جا جائے تو ایک ڈول پانی پر معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ ایک صورت میں خون بہائے جاتے ہیں اور دوسری صورت میں پانی کو بہانا کافی ہو جاتا ہے۔

آسانی پیدا کرنے والے اور مشکل پیدا کرنے والے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہئے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہو تو وہ اس کو گھٹانے والے بنیں، وہ اس کو بڑھانے والے نہ بنیں ۔ یہ بھی ایک سنت رسول ہے۔ آجکل اگر کسی سے پوچھیں کہ سنت کیا ہے تو وہ کہے گا کہ داڑھی میں خضاب لگانا، سر پر عمامہ باندھنا، مسواک کرنا وغیرہ۔ لوگوں کو معلوم نہیں کہ یہ بھی ایک عظیم سنت ہے کہ کوئی شخص اگر مسجد جیسی مقدس جگہ پر گندگی ڈال دے تو آپ مشتعل نہ ہوں۔ آپ معاملہ کو مزید نہ بڑھائیں۔ بلکہ جس مقام پر مسئلہ پیدا ہوا ہے وہیں دھو کر اسے ختم کر دیں۔ امریکی مسلمانوں کی ایک تنظیم کے ایک عہدیدار نے اپنے یہاں کا چھپا ہوا پمفلٹ مجھے دیا۔ یہ جو دھیا کی بابری مسجد کے بارہ میں تھا۔ اس میں بابری مسجد کی تصویر کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

The Babari Masjid at Ayodhya was demolished on December 6, 1992 by a frenzied mob of thousands of militant Hindus., یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے مختلف الفاظ میں یہی بات لکھ رکھی ہے۔ مگر اس کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ ۶ دسمبر کے واقعہ کو جس طرح انھوں نے لکھا ہے اسی طرح خدا کے فرشتوں نے بھی اس کو یقینی طور پر لکھ رکھا ہے۔ اور مسلم دانشوروں کی اس تحریر کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ وہ فرشتوں کے اندراج کے مطابق ہو۔ مجھے سخت شبہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ فرشتوں کے رجسٹر میں غالباً اس واقعہ کی بابت برعکس طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہوں گے:

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page