The Story of America, by John A. Garraty.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۶
سے متعلق قارئین کے خطوط شائع ہوئے تھے۔ ان خطوط میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں ہر دن تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ امریکی دستور کی مشہور دوسری ترمیم (second amendment) نے ہتھیار رکھنے کو ایک امریکی کا شہری حق قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں ایپوکيشن یاجاب حاصل کرنے سے بھی زیادہ آسان گن حاصل کرنا ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ مسٹر مارک جیرول (Mark Jerol) کے الفاظ میں، امریکہ کے گن پرابلم کی وجہ سے ہم ایک زندہ جہنم (living hell) کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک جرمن قتاری (Elke Zschaebitz) نے لکھا تھا کہ امریکی دنیا کی واحد قوم ہیں جو محفوظ زندگی سے بھی زیادہ گن رکھنے کے حق کی حمایت کرتے ہیں: Americans are the only people who support the right to own a gun rather than the right to walk safely along the street or to feel secure in their homes. (p. 6)
سان ڈیاگو کے (Ray R. Dunakin III) نے لکھا تھا کہ امریکہ میں سنگین جرائم کی موجودگی کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مجرم کو سزا نہیں ملتی۔ ہم کو آج گن کنٹرول کی ضرورت نہیں بلکہ کرائم کنٹرول کی ضرورت ہے:
Criminals who commit serious crimes are given light sentences and turned back onto the streets to rob or kill again and again. We don't need gun control, we need crime control. ایک فلسطینی نوجوان سے اسلامک سوسائٹی آرینج کاؤنٹی، میں ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے بعد انھوں نے فرائیڈے رپورٹ (The Friday Report) کے تین شمارے برائے مطالعہ دئے۔ یہ دار مکہ ڈینور (Denver) کی طرف سے ہرماہ "اسلامک نیوز لیٹر" کے طور پر شائع ہوتا ہے۔ (Tel. 303-6912201)
اس نیوز لیٹر کے شمارہ اکتوبر - نومبر ۱۹۹۳ء (جمادی الاول ۱۴۱۴ھ) کے ایڈیٹوریل میں فلسطین کے حالیہ معاہدہ کو غیر نمائندہ افراد کی طرف سے فلسطین کی فروخت (sale) قرار دیا گیا تھا۔ ایک صفحہ فتاویٰ کا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ یہ فتاویٰ اہل السنت والجماعتہ کے علماء کی طرف سے دئے گئے ہیں۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک غیر اسلامی ملک میں ایک مسجد بیچ کر دوسری زیادہ بڑی جگہ خریدی جائے۔ اس کے جواب میں بتایا گیا تھا کہ بیچنا اور جگہ کا بدلنا دونوں جائز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues