Al-Risala · July 1995 · page 37

The Story of America, by John A. Garraty.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۷

Q. Is it permissible to sell a mosque in a non-Islamic country in order to buy a bigger one? A. If the mosque is ruined or not big enough and they have to demolish or sell it, it is permissible to sell it and to buy or build another one or transfer it to another place for the interest of the Muslims. (p. اس کو پڑھ کر میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس قسم کا فتوٰی اگر انڈیا کا کوئی عالم دے تو شاید فوراً ہی دوسرا جوابی فتوٰی شائع ہوگا جس میں اعلان کیا جائے گا کہ جس شخص نے ایسا فتویٰ دیا ہے وہ مباح الدم ہے، اس کو ذلت کے ساتھ قتل کر دینا چاہئے۔ مگر امریکہ میں یہ فتویٰ چھپ رہا ہے اور انٹر نیشنل سیرت کانفرنس میں وہ تقسیم کیا جا رہا ہے مگر کوئی اس کے خلاف احتجاج کرنے والا نہیں۔ ہندوستان اور امریکہ کا یہی فرق ہے جس نے ایک ملک کو مسلمانوں کے لئے فادکا ملک بنا دیا ہے اور دوسرے کو امن کا ملک۔ ۳ جنوری کی شام کو مجھے جناب صفی قریشی صاحب کے یہاں جانا تھا۔ صغیر اسلم صاحب کے ساتھ روانہ ہوا۔ راستہ میں ہم لوگ ایک خاص مقام سے گزرے۔ صغیر اسلم صاحب نے بتایا کہ پہلے ہم لوگ یہاں رہتے تھے۔ یہاں ان کے پاس چھ ہزار مربع فٹ کا مکان تھا۔ خوبصورت پارک کے کنارے کا یہ مکان بہت وسیع اور بہت شاندار تھا۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے اس کو چھوڑ کر مسجد کے قریب چھوٹا مکان لے لیا۔ یہ دوسرا مکان دو ہزار مربع فٹ کا ہے۔ علاقہ کے لحاظ سے بھی پہلا مکان نہایت اہم علاقہ میں تھا۔ جب کہ موجودہ مکان دوسرے درجہ کے علاقہ میں ہے۔ جب انھوں نے یہ مکان بدلا تو اکثر لوگ ان کا مذاق اڑا رہے تھے کہ اتنا اچھا مکان چھوڑ کر معمولی مکان میں آگئے۔ یہاں ہر آدمی بچوں کے بگڑنے کی شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر یہ شکایت میرے نزدیک بے معنی ہے۔ اس لئے کہ اس معاملہ کا تعلق بچوں سے زیادہ ان کے بڑوں سے ہے۔ بڑے لوگ اپنے چاہنے کی قیمت ادا نہیں کرتے اسی لئے وہ اپنے بچوں کی اصلاح نہیں کر پاتے۔ اگر آپ اپنے بچوں کو آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کے ماحول کو دنیوی شان وشوکت سے پاک کرنا ہوگا۔ اس کے بجائے اپنے آپ کو مسجد والے ماحول سے قریب کرنا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page