The Story of America, by John A. Garraty.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۱
پشاور سے ہے۔ انھوں نے افغانستان کی جنگ میں عملی حصہ لیا ہے۔ وہ اس زمانہ میں افغانستان گئے تھے جب کہ روسی فوجیں واپس جا چکی تھیں مگر ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت ابھی باقی تھی۔ انھوں کہا کہ میرا یہ ارمان رہ گیا کہ اس جہاد میں مجھے کوئی زخم لگتا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ میں نے پوچھا کہ اب تو افغانستان سے روس واپس جا چکا ہے۔ اب سب کے سب افغانی لوگ وہاں ہیں۔ حتی کہ حکمت یار اور برہان الدین دونوں مجاہدین کے سردار تھے۔ پھر یہ باہمی لڑائی کیوں ابھی جاری ہے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ اقتدار لیکن اگر یہ اقتدار کی جنگ ہے تو اس سے پہلے وہاں جہاد کی جنگ تھی۔ اور اگر وہ جہاد کی جنگ تھی تو اب اقتدار کی جنگ نہ ہونا چاہئے ۔
ہوائی اڈہ تک ایک گھنٹہ کا سفر "فری وے" کے ذریعہ طے ہوا۔ کہیں بھی ریڈ لائٹ نہیں آئی اور نہ گاڑی روکنے کی ضرورت ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فری وے کی سڑکوں پر کراسنگ نہیں ہوتی۔ جہاں کہیں کراسنگ ہوتی ہے وہاں اور برج بنا دیا جاتا ہے تاکہ گاڑیاں اوپر سے گزر سکیں۔ ایئر پورٹ کے پاس پہنچے تو سڑک کے اوپر رن وے بنا ہوا تھا۔ اوپر سے جہاز دوڑ رہا تھا اور نیچے سے کار۔
لاس اینجلس سے سوئس ایئر کی فلائٹ ۱۰ کے ذریعہ سفر ہوا۔ مقامی وقت کے لحاظ سے رات کو ۹ بجے جہاز یہاں سے روانہ ہوا۔ ۹۵۷۰ کلومیٹر کی نان اسٹاپ پرواز تھی، ۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہوا یہ جہاز ساڑھے دس گھنٹہ میں نیویارک پہنچا۔ اس وقت نیویارک میں شام کے ساڑھے چار بجے کا وقت تھا اور جنوری ۱۹۹۲ء کی ۶ تاریخ۔ یہ سفر بہت تھکا دینے والا تھا۔ مگر نیند اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ راستہ میں بار بار گہری نیند آتی رہی اور یہ سفر بآسانی طے ہو گیا۔
راستہ میں سوئس ایئر کا فلائٹ میگزین سوئس ایئر گزٹ (جنوری ۱۹۹۲ء) پڑھا۔ اس کا ایک مضمون اس موضوع پر تھا کہ آسمان نیلا کیوں ہے (why is the sky blue) اس سلسلہ میں مختلف تفصیلات درج تھیں۔ زمین سے ہم سورج اور آسمان کو گیسوں کی ۵۰ کلومیٹر موٹی چادر (thick sheet) کے واسطہ سے دیکھتے ہیں جس کو فضا (atmosphere) کہا جاتا ہے۔ ماہ ارسال جولائی ۱۹۹۵
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues