Al-Risala · July 1995 · page 40

The Story of America, by John A. Garraty.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۰

اس کے اصل ذمہ دار نا اہل مسلم لیڈر ہیں۔ ان کے نکے لیڈروں نے پچھلے سو سال سے ہندوؤں اور مسلمانوں کو غیر ضروری طور پر ایک دوسرے سے متصادم رکھا ہے۔ آپ لوگوں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس قسم کے نکے لیڈر آپ کے یہاں نہیں اٹھے یا آپ لوگوں نے انھیں اٹھنے نہیں دیا ۔ اگر امریکہ میں اسلام کے نام پر وہی ہنگامے جاری ہو جاتے جو برصغیر ہند میں جاری کئے گئے تو امریکہ بھی آپ کے لئے ویسا ہی ہوتا جیسا کہ آپ انڈیا کو سمجھتے ہیں۔ امریکہ میں دو ہفتہ تک رہا۔ اس مدت میں وہاں کبھی بجلی فیل نہیں ہوئی۔ ٹیلی فون کبھی ڈیڈ نہیں ہوا۔ کبھی سڑکوں پر ہارن کی آواز نہیں آئی۔ کبھی مجھے لاؤڈ اسپیکر کا شور سننے پر مجبور نہیں ہونا پڑا ۔ فٹ پاتھ پر کہیں خوانچہ فروش نظر نہیں آئے ۔ کہیں کوئی گداگر دکھائی نہیں دیا۔ بے شمار گاڑیوں کے باوجود سڑکوں پر پولیوشن بہت کم تھا۔ کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کا کوئی وجود نہ تھا۔ غرض زندگی ہر اعتبار سے پر راحت تھی۔ گھر، سڑک، بازار، دفاتر، ہر جگہ صفائی اور باقاعدگی نظر آتی تھی۔

اس کے بعد جب سفر سے واپس آیا اور دہلی میں داخل ہوا تو یہاں ہر چیز بالکل مختلف تھی وہاں اگر ہر چیز اعلیٰ تھی تو یہاں ہر چیز ادنیٰ نظر آئی۔ تاہم میرے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ مجھے ہندوستان چھوڑ دینا چاہئے اور امریکہ میں جا کر رہنا چاہئے۔ امریکہ بلاشبہ ہندوستان کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کے باوجود میں ہندوستان کو اور صرف ہندوستان کو پسند کرتا ہوں ۔ کیوں کہ ہندوستان میرا وطن ہے۔ میری تمنا ہے کہ میرا ملک بھی دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی طرح اعلیٰ ترقی کرے۔

دوسروں کی ترقی میں جینا مجھے اپنی غیرت کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ میں خود اپنے وطن کی ترقی میں جینا چاہتا ہوں۔ اگر مجھے اپنی عمر میں ایک ترقی یافتہ ہندوستان نہ ملے تو یہ احساس بھی میرے اطمینان کے لئے کافی ہے کہ ہندوستان کے مستقبل کی تعمیر میں کچھ اینٹیں میں نے بھی اپنے کمزور ہاتھوں سے رکھی تھیں۔

۵ جنوری ۱۹۹۲ کو واپسی کا دن تھا۔ گارڈن گروو سے لاس اینجلس کے لئے جناب عبد الحمید سنچی اور جناب حبیب الدین ملک کے ساتھ روانگی ہوئی۔ حبیب الدین ملک صاحب کا تعلق

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page