Al-Risala · July 1995 · page 43

The Story of America, by John A. Garraty.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۳

کرنے کے لئے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک بار ان کے ساتھ ایسا ہوا کہ جس ہوائی اڈہ پر انھیں اترنا تھا وہاں سخت فاگ تھا۔ اس لئے وہ وہاں اپنا جہاز اتار نہیں سکتے تھے۔ انھوں نے آس پاس کے کئی مقامات سے بذریعہ وائرلیس رابطہ قائم کیا۔ ہر جگہ سے یہی جواب ملا کہ ایئر پورٹ کے اوپر گہرا کہر چھایا ہوا ہے۔ اس کے بعد بمبئی جا کر انھوں نے اپنا جہاز اتارا۔ خوش قسمتی سے انھوں نے زیادہ پٹرول لے لیا تھا ورنہ بمبئی پہنچنا ممکن نہ ہوتا۔

زندگی میں بھی اس طرح کے نازک لمحات آتے ہیں جب کہ مطلوب منزل کی طرف بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس وقت آدمی کے اندر اتنی بصیرت ہونی چاہئے کہ وہ جان سکے کہ دوسرے کون سے مقامات ہیں جس طرف وہ اپنے سفر کے رخ کو موڑ سکتا ہے۔

نیویارک سے بہت سی تاریخی داستانیں وابستہ ہیں۔ آئن سٹین کے سوانح نگار رونالڈ کلارک (Ronal W. Clark) نے لکھا ہے کہ ۱۹۰۸ میں نیویارک یونیورسٹی میں نظریاتی طبیعیات (theoretical physics) کے شعبہ میں ایک پروفیسر کی ضرورت تھی۔ آئن سٹین اس کے لئے امیدوار تھا۔ لیکن بورڈ آف ایجوکیشن نے بعض سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے آئن سٹین کو نہیں لیا۔ اس کے بجائے انھوں نے فریڈرش ایڈلر (Friedrich Adler) کا تقرر کر دیا۔

مگر نوجوان ایڈلر ایک انوکھا آدمی تھا جس میں علمی دیانت داری غیر معمولی حد تک پائی جاتی تھی ، بعد کو جب اسے معلوم ہوا کہ اگر وہ اس پوسٹ پر نہ ہوتا اور اس کی پیش کش آئن سٹین کو کی جاتی تو وہ اس کو قبول کر لیتا۔ اس نے کہا کہ محض سیاسی اسباب سے ہمیں ایسا موقع کھونا نہیں چاہئے جب کہ ہم ایک ایسے شخص کو پا سکتے ہیں جو یونیورسٹی کے معیار کو بہت زیادہ بڑھا دینے والا ہے۔ اس نے بورڈ آف ایجوکیشن کو اپنا استعفا بھیجتے ہوئے لکھا کہ اگر یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی یونیورسٹی کے لئے آئن سٹین لائق شخص کو پا سکتے ہیں تو اس پوسٹ پر میرے جیسے جیسے ایک آدمی کو رکھنا بالکل لغو ہوگا۔

میں بالکل صفائی کے ساتھ کہوں گا کہ طبیعیاتی عالم کی حیثیت سے میرا اور آئن سٹین کا کچھ بھی مقابلہ نہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page