Al-Risala · August 1995 · page 1

سفرنامہ اسپین

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۱

سفرنامہ اسپین

اسپین کی مشہور الکلہ یونیورسٹی (University of Alcala) سے ریسٹر ڈاکٹر گالا (Mankel Gala) کے دستخط سے ان کا خط مورخہ ۲۳ اگست ۴۱۹۹۹لا۔ اس میں مجھے میڈرڈ کی تین روزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔ یہ انٹرنیشنل کانفرنس ۲۸ - ۳۰ نومبر ۴۱۹۹۹ کو تین سامی مذاہب (یہودیت، عیسائیت، اسلام) کے اشتراک سے ہوئی۔ یہ امن عالم کے بارے میں تھی اور اس کا موضوع تھا :

Three Religions: A commitment for peace

اس دعوت نامہ میں مجھے خصوصی مہمان (special guest) کے طور پر مذکورہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کے مطابق اسپین کا سفر ہوا۔

اس سفر کا پہلا سبق آموز تجربہ اس وقت ہوا جب کہ مجھے اس کا ” کوپن “ ملا۔ ہوائی سفر کا روایتی طریقہ یہ ہے کہ آدمی متعلقہ ائیر کمپنی سے ٹکٹ حاصل کرتا ہے ۔ اس کے بعد ائیر پورٹ پر اسے بورڈنگ کارڈ دیا جاتا ہے۔ اس بار پی ٹی اے کی بنیاد پر ائیر فرانس سے، ہمیں جو چیز دی گئی وہ معروف ٹکٹ نہ تھا۔ بلکہ چار کوپن جو گویا ٹکٹ بھی تھا اور بورڈنگ کارڈ بھی۔ مغربی ممالک اسی طرح اپنی ترقی کا سفر مسلسل جاری رکھتے ہیں۔ مگر ہندوستان جیسے ملکوں میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔

۲۷ نومبر کی صبح کو گھر سے ائیر پورٹ جانے کے لیے نکلا تو سورج کی روشنی پھیل چکی تھی۔ سڑک پر حسب معمول گاڑیاں دوڑتی ہوئی نظر آئیں ۔ قدیم زمانے کے ایک شاعر نے کہا تھا : ہوئی صبح اور ادھر ہم کان پر رکھ کر مسلم نکلے موجودہ زمانہ کا آدمی شاید کہے گا کہ صبح ہوئی اور ہم اپنی گاڑی لے کر روانہ ہوئے۔ مشینی انقلاب نے قدیم و جدید میں جو فرق کیا ہے اس کی یہ ایک غلامی مثال ہے۔

دہلی کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر داخل ہوا تو اندر کا وسیع ہال پلاسٹک کے بڑے بڑے بنڈلوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر ایک پر لکھا ہوا تھا، باکو (Baku) یہ سب ائیر ٹرانسپورٹ کے ذریعہ روس بھیجے جارہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ تمام بنڈل بسے ہوئے لباس اور گرم کپڑے سے بھرے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page