الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۴
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۴
قال الشيخ ابو سليمان الداراني : اني لاخرج من منزلي فما يقع بصرى على شي الا رأيت لله على فيه نعمة ولي فيه عبرة - عن الحسن البصري انه قال : تفكر ساعة خير من قيام ليلة - قال سفيان بن عيينه : الفكرة نور يدخل قلبك ويقول :
اذا المرء كانت له فكرة ، ففى كل شي له عبرة - شیخ ابوسلیمان دارانی نے کہا کہ میں اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو میرا حال یہ ہوتا ہے کہ جس چیز پر بھی میری نظر پڑتی ہے اس میں مجھے اللہ کی نعمت دکھائی دیتی ہے اور اس میں میرے لیے عبرت ہوتی ہے۔
حسن بصری نے کہا کہ ایک گھڑی کے لیے اللہ میں سوچنا ساری رات نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
سفیان بن عیینہ نے کہا کہ غور وفکر کرنا روشنی ہے جو تمہارے دل میں داخل ہوتی ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جب آدمی کے اندر سوچ کا مادہ ہو تو ہر چیز میں اس کے لیے عبرت و نصیحت ہوگی۔
ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ آدمی مبارک ہے جس کا بولنا یاد الہی کا بولنا ہو ، جس کی خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو اور جس کا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو (عن عیسی علیہ السلام انه قال: طوبى لمن كان قيله تذكراً وصمته تفكراً ونظره عبراً) ، دین کی اصل حقیقت ذکر و فکر ہے۔ ذکر و فکر سے مراد معروف قسم کے اور ادو اشغال نہیں ہیں۔ ذکر و فکر ایک زندہ عمل ہے جو شعور خداوندی کی زمین پر پیدا ہوتا ہے ۔ جب ایک شخص پر اللہ کی حقیقت اپنے جلال و کمال کے ساتھ منکشف ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک نئی روشنی آجاتی ہے ۔ اس کی روح ربانی جلوؤں سے بیدار ہو جاتی ہے ۔
ایسا آدمی اندر سے باہر تک بدل جاتا ہے ۔ اس کا چپ رہنا اور اس کا بولنا ، اس کا دیکھنا اور اس کا سننا، اس کا چلنا اور اس کا رکنا ، ہر چیز میں ایک ربانی نور پیدا ہو جاتا ہے ۔ ساری دنیا اس کے لیے رزق رب کا دستر خوان بن جاتی ہے ۔
یہی وہ ربانی انسان ہے جس کو مومن باللہ کہا جاتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues