Al-Risala · January 1995 · page 5

عبادت اور اقتدار

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۵

عبادت اور اقتدار

وَعَدَ اللهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اللہ نے وعدہ کیا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا۔ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ اور ان کے لیے ان کے دین کو جمادے گا جس کو اس نے مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کی خوف کی حالت کے لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے اور جو اس (النور (۵۵) کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔

یہاں خلافت سے مراد سیاسی اقتدار ہے۔ دنیا میں سیاسی اقتدار اللہ کی طرف سے دیا جاتا ہے، اور وہ مختلف مصالح کے تحت اہل ایمان اور غیر اہل ایمان دونوں کو ملتا ہے۔ اہلِ ایمان کو اقتدار عطا کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہ ایمان اور عمل صالح کا ثبوت فراہم کر دیں۔ اقتدار اہلِ ایمان کے لیے ایک قومی انعام ہے جو قومی استعداد کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔

استخلاف کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ پھر وہ صرف اللہ کی عبادت کریں گے، اور کسی چیز کو اللہ کی عبادت میں شریک نہیں بنائیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیاسی اقتدار کے بعد انھیں مکمل عبادت کا موقع ملے گا۔ اب تک ان کی عبادت جزئی طور پر نماز روزہ تک محدود تھی اور اب وہ سیاسی اور قانونی معاملے میں بھی عبادت گزار بن جائیں گے۔ اس سے مراد دراصل حالت خوف کا خاتمہ ہے نہ کہ ناقص عبادت گزاری کا خاتمہ۔

عبادت کا عمل زمین پر نہیں ہوتا بلکہ فرد کی اپنی شخصیت پر ہوتا ہے۔ شخصیت انسانی ہی عبادت کا محل ہے۔ ناقص عبادت یہ ہے کہ آدمی کی عبادت میں خشوع اور تقویٰ کی روح نہ پائی جائے ۔ اور کامل عبادت یہ ہے کہ آدمی تقویٰ اور خشوع کے ساتھ عبادت کا عمل کرے۔ اس کی عبادت میں ظاہری آداب کے ساتھ عبادت کی داخلی اسپرٹ بھی پوری طرح موجود ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page