Al-Risala · August 1995 · page 36

Good morning. This is a wake-up call.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۳۶

(انگلینڈ) میں تبلیغی جماعت کا اجتماع تھا۔ اس میں وہ بھی جزئی طور پر شریک ہوئے۔ اس اجتماع میں ہر ملک کے مسلمان آئے ہوئے تھے۔ ہر طرف السلام علیکم، السلام علیکم کی آواز سنائی دیتی تھی۔ وہی منظر تھا جس کو قرآن میں الاقیلاً سلاما سلاما (الواقعہ ۲۶) کہا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ میں نے آخری تقریر سنی، بہترین تقریر تھی۔ ایسی تقریر میں نے مصر میں کبھی نہیں سنی (کلام جمیل، لم اسمع مثله في مصر)

کھانے کی میز پر قاہرہ کے ڈاکٹر جمعہ بھی موجود تھے۔ وہ فقہ کے استاد ہیں۔ ایک مقامی مسلمان نے ان سے سوال کیا کہ اس ملک میں حلال گوشت کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پھر ہم لوگ کیا کریں ۔ ڈاکٹر جمعہ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو دیکھو ۔ یہ گوشت نہیں کھاتے۔ وہ غیر لحمی غذا پر گزارہ کرتے ہیں۔ لیکن ان کی صحت بہترین ہے۔ گوشت کے بغیر آدمی مر نہیں جاتا۔

گوشت کے بارہ میں میرا یہ ذوق اختیاری نہیں ہے۔ میری والدہ کہتی تھیں کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا اس وقت بھی میرا یہ حال تھا کہ اگر وہ انڈ ایا مچھلی یا گوشت میرے منہ میں ڈالتی تھیں تو میں نکال دیتا تھا، اور اس کو کھاتا نہیں تھا۔ گویا میں پیدائشی طور پر ” سبزی خور ہوں ۔ میں نے ڈاکٹر جمعہ کی بات کی تکمیل کرتے ہوئے کہا : میں بائی برتھ ویجیٹیریئن ہوں، آپ حالات کے تقاضے کے تحت بائی چوائس ویجیٹیریئن بن جائیے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ جو عرب خود اپنے وطن میں کوئی بڑا علمی کارنامہ نہیں کر سکے تھے انھوں نے اسپین میں کیسے اتنا بڑا علمی کارنامہ انجام دیا کہ وہ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کی بنیاد بن گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا جواب ایک مستشرق نے یہ دیا ہے کہ عرب ایک ایسے ملک میں تھے جہاں دریاؤں کی روانی نہ تھی۔ وہاں سر سبز مناظر موجود نہ تھے۔ اس کے بجائے وہاں خشک پہاڑ اور تپتے ہوئے ریگستانوں کا ماحول تھا ۔ اس کے بعد یہ عرب اپنے وطن سے نکل کر جب اسپین میں پہنچے تو یہاں قدرتی مناظر تھے۔ فطرت کا حسن تھا، نشاط انگیز آب و ہوا تھی۔ اس نے عربوں کے اندر ولولہ کار اور جوش عمل ابھار دیا۔ ماحول کے اثر سے ان کی فطری صلاحیتیں جاگ اٹھیں۔

میں نے کہا کہ یہاں دوبارہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان نشاط انگیز مناظر نے خود اسپینیوں کے اندر یہی ولولہ کیوں نہیں ابھارا ۔ اس فرق پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ولولہ کار کو ابھارنے والی اصل چیز تبدیلی (change) ہے۔ عربوں کے لیے صحرا سے نکل کر چمنستان میں جانا، تبدیلی کا ایک

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page