A journey to hell and back again
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۴۱
سیاسی میدان کے مواقع کو استعمال کرو۔ مگر اخوانی نوجوانوں نے اس نصیحت کو قبول نہیں کیا۔ یہ سن کر ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے کہا: انهم لا يريدون ان يعملوا في الميدان الصعب وذهبوا الى ميدان سهل وہ مشکل میدان میں عمل کرنا نہیں چاہتے اس لئے انھوں نے آسان میدان کو اختیار کر لیا، یعنی دعوت کے میدان میں عمل کرنے کے لئے صبر کی صبر کی ضرورت ہے اور صبر انسان کے لئے سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔
ایک عرب نوجوان مختار احمد الشیبانی سے ملاقات ہوئی تو وہ دیر تک مجھ سے لپٹ کر روتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ میں ایسے مقام پر پہنچ گیا تھا کہ یا تو پاگل ہو جاؤں یا خود کشی کر لوں۔ مگر الرساله مشن نے عین وقت پر مجھ کو بچا لیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مشن سے واقف ہونے سے پہلے میں ایک شعوری قید خانہ میں جی رہا تھا۔ اس مشن سے واقف ہونے کے بعد میں نے محسوس کیا گویا کہ میں کرہ زمین کا بوجھ اپنے اوپر لادے ہوئے تھا۔ اب یہ بوجھ میرے اوپر سے اتر گیا۔ قبل التعرف على الرسالة كنت اعيش في سجن شعوري۔ ۔ اما بعد التعرف علی الرسالة فاحسست كأنى كنت احمل الكرة الارضية ثم وقعت من على كاهلي۔
اس کا پس منظر یہ ہے کہ پچھلے تقریبا ۵۰ سال سے عالم عرب کے نوجوان اور سوچنے والے لوگ ایک شدید فتنے میں مبتلا تھے۔ یہ اسلام کی سیاسی اور نظامی تعبیر کا فتنہ تھا۔ یہ فکر حسن البنا اور سید قطب کی تحریروں کے ذریعہ عرب ملکوں میں پھیلا۔ پھر سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کتابوں کے عربی ترجموں سے اس میں مزید اضافہ ہوا۔
اس انقلابی فکر سے متاثرہ افراد کے لئے دو میں سے ایک کا اختیار باقی رہ گیا تھا یا حکومتی تشدد کا نشانہ بننا یا نفاق کا طریقہ اختیار کرنا۔ سنجیدہ افراد اس صورتحال سے مطمئن نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ وہ سخت قسم کے ذہنی اضطراب میں مبتلا تھے۔ اب الرسالہ مشن ایسے لوگوں کو حیات نو کا پیغام دکھائی دے رہا ہے۔
عربوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ شرحوں اور تفسیروں کی ایک کمی یہ ہے کہ ان میں آیات و احادیث کو فروع پر منطبق کیا جاتا ہے، مگر اساسات پر منطبق نہیں کیا جاتا۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ لتتبعن سنن من كان قبلكم شبراً بشبر وذراعاً بذراع حتى
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues