Al-Risala · January 1995 · page 40

A journey to hell and back again

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۴۰

ابتداً یہ لفظ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ غور کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی مراد اس سے دریائے گنگا ہے۔ مصر کے لوگ ج کو گ پڑھتے ہیں۔ مگر غیر عربی الفاظ بولنا ہو تو اس وقت وہ گ کو ج کی مانند پڑھیں گے۔

مصر میں بڑے شہروں کے تعلیم یافتہ لوگ ج کو گ بولنے لگے ہیں۔ مگر شہروں کے باہر دیہات کے لوگ اب بھی ج کو ج ہی بولتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص ج کو ج کی آواز نے بولے اس کو تعلیم یافتہ لوگ قروی (دیہاتی) کہتے ہیں۔

۲۹ ستمبر کی شام کو میں ڈاکٹر عبد العلیم عویس کے مکان پر تھا۔ میری موجودگی اطلاع پا کر وہاں الاستاذ محمود محمد خلیل آگئے۔ ان کا تعلق ریڈیو قاہرہ سے ہے۔ انہوں نے ریڈیو کے لئے ایک مفصل انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق کچھ الرسالہ مشن سے تھا۔ اور کچھ موجودہ زمانہ میں امت مسلمہ کے مسائل سے۔

ایک سوال ” اولویات العمل الاسلامی “ سے متعلق تھا۔ یعنی اعمال اسلامی کو اختیار کرنے کے سلسلہ میں ہماری ترجیح کیا ہونی چاہئے۔ میں نے کہا کہ اس کا واضح جواب صحیح بخاری کی روایت میں موجود ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ما خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین امرین الاختار الیسرھما۔ ترجیح کے سلسلہ میں ہمارا طریقہ اختیار الیسر کا ہونا چاہئے۔ یہاں ایسر سے مراد وہ چیز ہے جو ممکن ہو۔ مصر میں اسلام پسند حضرات کے لئے عمل کے دو میدان تھے۔ ایک، تعلیم ودعوت۔ دوسرا، انقلاب حکومت۔ پہلا ممکن تھا۔ اور دوسرا غیر ممکن۔ اس لئے سنت رسول کے مطابق، ان کے لئے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ انقلاب حکومت کے میدان میں نہ اتریں۔ اور تعلیم و دعوت کے میدان میں کام کریں۔ شام کی اس مجلس میں حکومت مصر کے ایک قانونی مستشار محروس فودہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اخوانی نوجوانوں کے اندر جذبہ تھا مگر ان کے اندر شعور نہ تھا (کانو امتحمسین ولكن غير و (عین)، انھوں نے کہا کہ میں نے اخوانی نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ تمہارے لئے دعوت کا میدان کھلا ہوا ہے، اس میں کام کرو۔ تم پہلے گہرے مطالعہ کے لئے دین اور دنیا کا علم حاصل کرو۔ اور پھر سیاسی مشاكل سے صرف نظر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے غیر

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page