Good morning. This is a wake-up call.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۵۴
کی وجہ یہ تھی کہ یہ مسلمان اپنی محنت اور اپنی مہارت کی بنا پر وہاں کے زمینداروں اور جاگیرداروں کے لیے قیمتی سرمایہ تھے۔ وہ ڈرتے تھے کہ اگر مسلمانوں کو نکال دیا گیا تو ان کے کھیت اور باغ ویران ہو جائیں گے اور ان کی اقتصادیات پر اس کا نہایت مضر اثر پڑے گا۔
مسلم اقتدار کے خاتمہ کے بعد مسجد قرطبہ کے ایک حصہ کو عیسائیوں نے چرچ میں تبدیل کر دیا۔ مگر اس کا سبب عیسائیوں کے ظلم کے ساتھ خود مسلمانوں کی نادانی بھی تھی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسپین میں ایک مسیحی پیشوا سینٹ ونسنٹ (Saint Vincent Ferrer) گزرا ہے۔ مسیحیوں نے اس کے نام پر قرطبہ میں دریا کے کنارے ایک چرچ تعمیر کیا تھا۔ اس علاقہ پر سیاسی قبضہ کے بعد مسلمانوں نے عین اسی چرچ کی جگہ اپنی مسجد بنا دی۔ اس طرح اس مسجد کے ساتھ غیر ضروری طور پر نزاع کی حالت قائم ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ بعد کو ۷۸۶ میں سلطان عبد الرحمن الداخل نے عیسائیوں کو راضی کر کے اس جگہ کو خرید لیا اور وہاں مزید تو سیع کے ساتھ عظیم مسجد قرطبہ کی تعمیر کی۔ اس تعمیر پر دو سال میں ۸۰ ہزار دینار خرچ ہوئے۔ عیسائیوں کو جب دوبارہ سیاسی غلبہ ملا تو انھوں نے مسجد کے تو سبعی حصہ کو تو چھوڑ دیا۔ مگر سینٹ ونسنٹ چرچ کی ابتدائی جگہ کو دوبارہ انھوں نے گرجامیں تبدیل کر دیا۔
اسپین میں مسلم سلطنت کے خاتمہ کے بعد مسیحیوں نے بہت سی مسجدوں کو چرچ بنایا تھا۔ اس کا دفاع کرتے ہوئے بعض مغربی مصنفین نے لکھا ہے کہ یہ مسیحیوں کی طرف سے جوابی کارروائی تھی۔ مسلمانوں نے اپنے زمانہ حکومت میں کثیر تعداد میں چرچ کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ چنانچہ مسیحیوں کو جب غلبہ حاصل ہوا تو انھوں نے دوبارہ ان مسجدوں کی جگہ پر اپنے چرچ بنا دیے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں :
" اسلام میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کوئی علاقہ مسلمانوں نے صلح سے نہیں بلکہ بزور شمشیر جنگ کے ذریعہ فتح کیا ہو تو وہاں کی زمینوں اور عمارتوں پر انھیں شرعاً مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اس اختیار میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ غیرمسلموں کی کسی عبادت گاہ کو ضرورۃ ختم کر دیں ، یا مسجد میں تبدیل کر لیں ۔ اس کے باوجود مسلمان فاتحین نے اس شرعی اختیار کو بہت کم استعمال کیا۔ بعض مقامات پر کسی ضرورت یا مصلحت کے تحت کلیسا کو مسجد بنا دیا گیا ۔ " اندلس میں چند روز ، صفحہ ۲۱ یہ بات صحیح نہیں ۔ " بزور شمشیر فتح " کا مذکورہ حکم صرف اس وقت ہے جب کہ فریق ثانی خود جارحیت
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues