Al-Risala · January 1995 · page 33

A journey to hell and back again

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۳

قاہرہ ایئرپورٹ میں داخل ہوا تو وہاں ایک نئی چیز نظر آئی۔ ایک شیشے کا کیس تھا۔ اس میں بہت سے نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ قریب سے دیکھا تو لکھا ہوا تھا: بعض النقود لحماية البیئة یعنی ماحول (environment) کو بچانے کے لئے یہاں کچھ رقم ڈالیں۔ ہزار سال پہلے اگر اس قسم کا کیس رکھا جاتا تو کوئی شخص اس کا مطلب نہیں سمجھ سکتا تھا۔ کیوں کہ ماحول کی حفاظت کا مسئلہ صنعتی تہذیب نے پیدا کیا ہے۔ اور صنعتی تہذیب کی عمر چند سو سال سے زیادہ نہیں۔ اور ماحول کی کثافت کا مسئلہ تو موجودہ شدت کے ساتھ صرف بیسویں صدی کے نصف آخر میں پیدا ہوا ہے۔

قاہرہ سے عرب امارات کی فلائٹ ۴۰۴ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں اس کی فلائٹ میگزین الامارات (Emirates) کا شمارہ ستمبر ۱۹۹۲ دیکھا۔ ایک مضمون میں مارٹن سلمان (Martin Seligman) کی کتاب التفاؤل المكتسب (Learned Optimism)

کا تعارف تھا۔ اس کتاب میں تحقیق کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ مایوس کن حالات میں بھی ہمیشہ روشن امکان کا ایک پہلو موجود ہوتا ہے۔ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو روشن پہلو پر اپنی ساری توجہ لگا دیتے ہیں۔ جب آپ کسی چیز کے ممکن ہونے پر یقین کر لیتے ہیں تو آپ کی عقل اس کے حصول کے لئے متحرک ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد آپ کا دماغ اپنے آپ اس کے عملی وسائل دریافت کر لیتا ہے (فالايمان بامكانية عمل شئ ما يحرك العقل للعمل من اجل انجازه وعندما تؤمن بشيئ يستنبط د ماغك وسائل تنفيذه جہاز میں صفائی اور باقاعدگی کا معیار نہایت عمدہ تھا۔ اس میں ایک نئی چیز یہ نظر آئی کہ جہاز کے اندر ویڈیو اسکرین پر قبلہ کا رخ بتانے کا انتظام تھا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ اسکرین پر بار بار ایک جہاز کی تصویر آ جاتی تھی۔ اس تصویر میں جہاز کا رخ عین وہی ہوتا تھا جو ہمارے واقعی جہاز کا تھا۔ اس کے بعد اس تصویر میں جہاز کے کنارے تیر کا ایک نشانہ ظاہر ہو جاتا تھا۔ یہ تیر بتاتا تھا کہ اب قبلہ کا رخ کس طرف ہے۔ جب ہوائی جہاز کی صنعت شروع ہوئی تو کچھ لوگوں نے بطور طنز کہا کہ یہ نمازی لوگ اڑتے ہوئے ہوائی جہاز کے اندر اپنے قبلہ کا رخ کس طرح معلوم کریں گے۔ مگر اللہ کی نشانی نے ظاہر کر بہتایا کہ اللہ اس سے عاجز نہیں کہ وہ آسمانی فضاؤں

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page