Al-Risala · January 1995 · page 34

A journey to hell and back again

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۴

میں بھی اپنے بندوں کو اپنی عبادت کی سمت سے آگاہ کر دے۔

ساڑھے چار گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز دبئی میں اترا۔ یہاں چار گھنٹہ کے انتظار کے بعد دبئی کے لئے جہاز لینا تھا۔ دبئی کا ہوائی اڈہ اور یہاں کی ہر چیز انٹرنیشنل معیار کے مطابق نظر آئی۔ البتہ یورپ کے ملکوں کے ہوائی اڈوں پر انسانوں کی بھیڑ بہت کم ہوتی ہے، جب کہ دہلی کے ہوائی اڈہ پر ہر طرف انسانوں کی بھیڑ نظر آئی۔ یہ ایک معروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔ یہاں سے روزانہ تقریباً سو ہوائی جہاز اڑتے ہیں اور وہ دنیا کے تقریباً ایک سو ملکوں میں اترتے ہیں۔ دہلی کے ہوائی اڈہ پر ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ وہاں پہنچ کر نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ مسجد کے باہر عربی میں أماكن الصلاة اور انگریزی میں (Prayer Room) لکھا ہوا تھا۔ مسجد اللہ کے بندوں کے لئے امن ہے۔ اس کے اندر داخل ہو کر ایک خاص طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے۔ مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ وہ اہلِ ایمان کے لئے روحانی پناہ گاہ بھی ہے۔

میں نے سوچا کہ دنیا کے ہر ملک میں اور ہر شہر میں کثرت سے مساجد کی موجودگی مسلمانوں کے لئے ایک غیر معمولی ایڈوانٹیج کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ یہ کہ وہ اسلامی تحریک کو مساجد کی بنیاد پر اٹھائیں، اور پھر دنیا کے ہر گوشہ میں اپنے لئے بنا، یا مرکز پالیں۔

دبئی سے دہلی کے لئے الامارات (Emirates) کی فلائٹ نمبر ۷۲ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ہم ساڑھے گیارہ بجے رات کو دہلی اترے۔ اس وقت کیلنڈر میں ستمبر کی ۳۰ تاریخ تھی ۔ مگر یہاں چار گھنٹہ قیام کے بعد جب اگلے جہاز پر بیٹھے تو اکتوبر ۱۹۹۲ کی پہلی تاریخ آچکی تھی۔ وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے۔ مگر انسان کتنا کم اس کا اندازہ کرتا ہے۔ راستہ میں قاہرہ کا روز نامہ الاخبار (۳۰ اکتوبر (۱۹۹۲) پڑھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا : دعاة | الحرب الصليبية ... ماذا يريدون - اس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا تھا کہ اور باب ، مذہبی جنگ کے مبلغین کا نشانہ کیا ہے، جو کہ نقارہ بجارہے ہیں اور لوگوں کو صلیبی جنگ کے نام پر جمع کر رہے ہیں (والآن - ماہی اهداف دعاة الحرب الدينية والذين يدقون الطبول الآن ويجمعون الناس حول شعار الحرب الصليبية)

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page