Al-Risala · September 1995 · page 2

اعتماد و توكل

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲

اعتماد و توكل

قرآن (آل عمران ۱۵۹) میں ہے کہ جب تم معاملہ کا فیصلہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو (فاذا عزمت فتوکل علی الله)، گویا عمل کا پختہ ارادہ انسان کو کر دینا ہے اور نتیجہ کے معاملہ کو اللہ کے سپرد کرنا ہے۔ الترمنذی کی روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جس طرح بھروسہ کرنے کا حق ہے تو ضرور وہ تم کو اسی طرح روزی دے گا جس طرح وہ چڑیا کو روزی دیتا ہے۔ چڑیا صبح کو خالی پیٹ نکلتی ہے اور شام کو بھرے پیٹ کے ساتھ واپس آتی ہے (لو انكم تتوكلون على الله حق توكله لرزقتكم كما يرزق الطير - تغدو خماصا وتروح بطاناً)

چڑیا اپنے بسیرے کے مقام سے نکل کر روزی کی تلاش میں جاتی ہے۔ یہ نکلنا اس کا اپنا فعل ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو رزق اسے ملتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ رزق کی تلاش - چڑیا کا کام ہے اور تلاش کے نتیجہ کا تعلق خدا سے ۔

الترمنذی (کتاب القیامۃ ) میں ہے کہ ایک شخص نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، میں اپنے اونٹ کو باندھوں اور پھر توکل کروں یا اس کو چھوڑ دوں اور پھر توکل کروں، آپ نے فرمایا تم اپنے اونٹ کو باندھو اور پھر توکل کرو ( یا رسول الله اعقلها او توکل او اطلقها او توکل قال اعقلها وتوکل ) ، گویا اپنے جانور کو باندھنے کا کام خود آدمی کو انجام دینا ہے۔ باندھنے کے بعد جانور ٹھہرے گا یا رسی توڑ کر بھاگ جائے گا ، اس معاملہ میں خدا کی کار سازی پر اعتماد کرنا ہے۔ اسی کو کہا گیا ہے کہ کوشش میری طرف سے اور اس کی تکمیل اللہ کی طرف سے (السعى مني والاتمام من الله) ہر کام میں ایک چیز ہوتی ہے محنت ، اور دوسری چیز ہے نتیجہ محنت ۔ تو کل کا تعلق محنت سے نہیں ہے بلکہ نتیجہ محنت سے ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ جب وہ کوئی کام کرنے کے لئے اٹھے تو پورے عزم کے ساتھ اس کو انجام دے۔ وہ اپنی پوری طاقت اس میں لگا دے۔ مگر نتیجہ کے معاملہ کو وہ اللہ کے اوپر چھوڑ دے ۔ آدمی اگر محنت کو خدا پر چھوڑے گا تو اس سے کاہلی اور بے عملی پیدا ہوگی۔ اور اگر وہ نتیجہ میں توکل کا طریقہ اختیار نہ کرے گا تو وہ مایوسی اور دل شکستگی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page