Al-Risala · September 1995 · page 4

صبر اسپیریریوشن

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴

صبر اسپیریریوشن

قرآن کی تقریبا دو سو آیتیں براہ راست طور پر صبر سے متعلق ہیں۔ اور بقیہ آیتیں بالواسطہ طور پر صبر سے متعلق۔ گویا قرآن کی تمام تعلیمات صبر پر مبنی ہیں۔ یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ قرآن صبر کی کتاب ہے۔

صبر کی براہ راست آیتوں کا معاملہ واضح ہے۔ مثلاً واستعينوا بالصبر و الصلوة (البقرہ ۴۵) و اصبر علی ما اصابك (لقمان (۱۷) وتواصوا بالصبر (العصر (۳) و دع اذاهم (الاحزاب (۴۸) یہ آیتیں وہ ہیں جن میں براہ راست الفاظ میں صبر کا حکم دیا گیا ہے۔

مگر دوسری بیشتر آیتوں کا بھی صبر سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ مثلاً قرآن کی پہلی آیت ہے : الحمد للہ رب العلمین (الفاتحہ)، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اس کا شکر اور تعریف کریں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کوئی بھی آدمی ناخوشگوار تجربات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ قرآن کے مطابق انسان کو کبد (مشقت) میں پیدا کیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی کے لئے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں خوشیوں اور مسرتوں کی زندگی بنا سکے۔

پھر حقیقی معنوں میں کوئی آدمی شکر کرنے والا کیسے بن سکتا ہے۔ اس کا واحد راز صبر ہے۔ یعنی آدمی جب دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے گا، اسی وقت اس کے لئے ممکن ہوگا کہ سچا کلمہ شکر اس کی زبان پر جاری ہو سکے۔ اسی لئے قرآن میں شکر کے ساتھ صبر کو وابستہ کیا گیا ہے (لقمان (۳۱) صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مسائل کے مقابلہ میں تسخیری انداز کا ہر مرحل دریافت کر سکے۔ آدمی جب فریق ثانی کے مقابلہ میں بھڑک جائے تو وہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ وہ سوچ کر کوئی گہرا جواب دے یا کوئی دور رس منصوبہ بنا سکے۔ مگر جب وہ صبر و تحمل سے کام لیتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ فوری اقدام کے بجائے سوچا سمجھا ہوا اقدام کرے۔ اور یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ فوری اقدام کرنے والا ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر اقدام کرنے والا ہمیشہ کامیاب۔

صبر ہر قسم کے مسائل کا بر تر حل (اسپیریریوشن) ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page