Al-Risala · September 1995 · page 8

دلیل کی زبان میں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۸

اس طرح کے نزاعی معاملات میں یہی اسلام کا طریقہ ہے۔ الجاحظ (۲۵۵ - ۱۶۳ھ) عربی ادب کا امام سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ایک مشہور کتاب البیان والتبیین ہے۔ اس کتاب میں اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی مختلف ادبی خصوصیات بیان کی ہیں۔ احادیث کے گہرے مطالعہ کے بعد اس نے آپ کی ایک صفت ان الفاظ میں بیان کی ہے:

كَانَ لا يُرِيدُ إسكَاتَ الخَصْمِ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ اپنے مخالف فریق کو آپ إِلَّا بِمَا يَعْرِفُهُ ۔ انھیں باتوں کے ذریعہ چپ کراتے تھے جن سے وہ واقف اور آشنا ہو۔

اسی بات کو انشاطبی نے اپنی کتاب الموافقات میں اس طرح بیان کیا ہے کہ اختلافی بحث میں وہی دلیل معتبر ہے جو متنازع فیہ نہ ہو بلکہ فریق ثانی کے نزدیک تسلیم شدہ ہو۔ (الموافقات فی اصول الاحکام، الجزء الرابع، صفحه ۱۹۸)

اس اصول کی روشنی میں، ہمارے لیے ضروری ہے کہ یکساں سول کوڈ کے معاملہ میں ہم اپنے نقطہ نظر کو عقلی دلائل اور علمی حقائق کی روشنی میں بیان کریں۔ کیوں کہ یہی انداز اور یہی اسلوب فریق ثانی کے نزدیک قابل لحاظ ہے اور یہی وہ انداز استدلال ہے جس کو موجودہ زمانہ میں باوزن استدلال سمجھا جاتا ہے۔

زیر نظر مقالہ میں اسی خاص اسلوب کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں مسلمہ حقائق اور متفق علیہ معیار کی روشنی میں ملت مسلمہ کے نقطہ نظر کو مدلل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مقالہ لوگوں کو سنجیدہ غور و فکر پر مجبور کرے گا اور ان شاء اللہ وہ حالات پیدا ہوں گے جب کہ خوش اسلوبی کے ساتھ اس قدیم نزاع کا خاتمہ ہو جائے۔ ۔

اگلے ۳۲ صفحات میں جو مقالہ یکساں سول کوڈ کے عنوان سے شامل ہے، وہ وقت کے اسی اہم ترین موضوع پر دلائل و حقائق کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ اس میں کا من سول کوڈ کو اینٹی مسلم بتانے کے بجائے اس کو اینٹی ریزن ثابت کیا گیا ہے۔ الرسالہ کے علاوہ اس کو علیحدہ پمفلٹ کی صورت میں بھی شائع کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس کو پھیلایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ان شاء اللہ اس کو انگریزی اور ہندی زبان میں بھی شائع کیا جائے گا، یہاں تک کہ لوگ کہہ اٹھیں : کتنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page