دلیل کی زبان میں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۷
دلیل کی زبان میں
یکساں سول کوڈ کا مسئلہ ملک کے سامنے تقریباً ۷۰ سال سے ہے۔ اکثریتی فرقہ عام طور پر اس کا حامی رہا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ مخالفت مسلمانوں کی طرف سے سامنے آئی ہے۔ اس مدت میں ہمارے علماء اور دانشوروں نے ہزاروں کی تعداد میں اس کے خلاف مضامین اور بیانات شائع کیے ہیں۔ جلسوں اور تقریروں کی صورت میں اس مسئلہ پر جتنا زیادہ بولا گیا ہے شاید کسی اور ملی مسئلہ پر نہیں بولا گیا ہے۔
تا ہم ان تمام کوششوں کا نتیجہ صفر ہے۔ ان مخالفتوں ، نیز بعض دوسرے اسباب سے اگرچہ ایسا ہوا کہ یکساں سول کوڈ کی بنیاد پر ہندوستانی پارلیمنٹ نے ابھی تک ایکٹ نہیں بنایا۔ تاہم ہماری ہمالیائی مخالفتیں ایک اور نقصان کو ظہور میں آنے سے روک نہ سکیں۔ اور وہ اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کے درمیان بڑھتی ہوئی نفرت ہے۔ اکثریتی فرقہ کا ذہن جب یہ ہو کہ یکساں سول کوڈ ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ تو ایسی حالت میں اس قسم کے کوڈ کا نہ بننا یہ تصور پیدا کرتا ہے کہ اقلیتی فرقہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ اور اقلیتی فرقہ کے خلاف اکثریتی فرقہ کا یہ تاثر بلاشبہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے کم خطر ناک نہیں۔
اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ یکساں سول کوڈ کے نظریہ کو عین اسی بنیاد پر رد کیا جائے جو اکثریتی فرقہ کے نزدیک قابلِ لحاظ ہے۔ یعنی دلائل و حقائق کی بنیاد۔ جب ہم یہ کہیں کہ " یکساں سول کوڈ ہمارے مذہب میں مداخلت ہے" تو یہ زبانِ فریق ثانی کو صرف ایک ناپسندیدہ چیخ و پکار معلوم ہوتی ہے۔ مگر جب ہم یہ ثابت کردیں کہ یکساں سول کوڈ خود قومی مصالح اور عقلی دلائل کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا تو یقیناً وہ ہماری بات پر غور کرے گا اور اس کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ اسلام ایک فطری مذہب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے ہر تقاضے کو دلائلِ فطرت کے زور پر ثابت کیا جا سکتا ہے۔ پھر جب یکساں سول کوڈ کے معاملہ کو دلائل فطرت کے زور پر رد کرنا ممکن ہو تو کیا ضرورت ہے کہ ہم وہ زبان استعمال کریں جو فریق ثانی کو منفی شور وغل کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues