یکساں سول کوڈ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲
یکساں سول کوڈ
یکساں سول کوڈ کا تصور آزادی (۱۹۴۷) کے پہلے سے ہندوستان میں چلا آرہا ہے۔ مگر اب وہ زیادہ تر دستور ہند کا مسئلہ بن گیا ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بعد ملک کا جو دستور بنا اس میں یونیفارم سول کوڈ کے نام سے اس کی بھی ایک باقاعدہ دفعہ شامل کر دی گئی۔ یہ دستور کی دفعہ ۴۴ ہے جو اس کے رہنما اصولوں کے تحت درج کی گئی ہے۔
دستور : غیر ضروری طوالت
دستور ایک اعلیٰ قانونی دستاویز ہے۔ دستور کا مقصد ان بنیادی اصولوں کا تعین ہے جس کی روشنی میں قومی حکومت (یا کسی اجتماعی ادارہ) کو چلایا جا سکے۔ خود اپنی نوعیت کے اعتبار سے دستور کو مختصر ہونا چاہیے ۔ کیوں کہ دستور جتنا لمبا ہو گا اتنا ہی زیادہ اس میں اختلافات پیدا ہوں گے اور بار بار اس میں ترمیم کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس طرح دستور کا احترام ختم ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ طوالت اور پیچیدگی کی بنا پر آخر کار ایسا ہو گا کہ صرف کچھ ماہرین دستور ہی اس کو جانیں گے۔ عام شہریوں کو اس سے کوئی واقفیت یا دلچسپی باقی نہ رہے گی۔
یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی شہرت کے ماہر دستوریا ت (constitutionalism) وسکانسن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ فلمین (David Fellman) سے لے کر انڈیا کے سب سے بڑے ماہر دستور مسٹر نانی پالکی والا تک نے مختصر دستور کی حمایت کی ہے۔
موجودہ زمانہ میں تمام ترقی یافتہ قوموں کے دستور نہایت مختصر ہیں۔ مثلاً غیر ترقی یافتہ ریاست جارجیا (Georgia) کا نظرثانی شدہ دستور پانچ لاکھ (500,000) الفاظ پر مشتمل ہے۔ جب کہ ترقی یافتہ امریکہ (United States) کا دستور صرف سات ہزار الفاظ پر مبنی ہے۔ اسی طرح جاپان کا دستور انتہائی مختصر ہے جس کو موجودہ زمانہ میں ترقی یافتہ قوموں کے درمیان نمبر ایک قوم کی حیثیت حاصل ہے (5/85-86)
انڈیا کا دستور غالباً تمام قومی دستوروں میں سب سے زیادہ لمبا ہے۔ بارہ تفصیلی شیڈول (schedules) کے علاوہ اصل دستور ۳۹۵ دفعات پر مشتمل ہے۔ جب کہ اکثر دفعات کی ذیلی دفعات
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues