دستور : غیر ضروری طوالت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳
بھی ہیں۔ اس لمبی دستور سازی کا نادرست ہونا اسی سے ثابت ہے کہ نومبر ۱۹۴۹ء کے بعد سے اب تک اس میں تقریباً ۸۰ ترمیمات ہو چکی ہیں اور مزید ترمیم کا مطالبہ جاری ہے۔ ان سب کے باوجود یہ ”جامع“ دستور ملک کو ترقی کے راستہ پر آگے لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد انڈیا کی دستور ساز اسمبلی کے صدر (۴۹-۱۹۴۷ء) تھے۔ یہ دستور اگرچہ انھیں کی زیر صدارت بنا اور اس کی تکمیل کے بعد انھوں نے ۲۶ نومبر ۱۹۴۹ء کو اس پر اپنا دستخط کیا۔ تاہم وہ لمبی دستور سازی کے خلاف تھے :
In his valedictory address to the constituent Assembly Dr Rajendra Prasad said that everything cannot be written in the Constitution and hoped for the development of healthy conventions. But these have not been developed and everything has to be written. in the Constitution. ڈاکٹر راجندر پرشاد نے دستور ساز اسمبلی میں اپنا الوداعی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ دستور میں ہر چیز لکھی نہیں جا سکتی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ صحت مند روایات قائم کی جائیں گی۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس یہ ذہن بن گیا کہ ہر چیز کو دستور میں لکھ دیا جائے (ہندوستان ٹائمس ۲۴ مئی ۱۹۹۵) کسی دستور کی غیر ضروری طوالت اس میں غیر ضروری دفعات کو شامل کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہندوستانی دستور میں اس قسم کی کثیر غیر ضروری دفعات شامل ہیں انھیں میں سے ایک ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں (directive principles) کی دفعہ ۴۴ ہے جو مشترک سول کوڈ سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے گی کہ انڈیا کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ حاصل ہو جائے :
The State shall endeavour to secure for the citizens a uniform civil code throughout the territory of India. دستور کی یہ دفعہ اتنا ہی غیر دستوری ہے جتنا یہ کہنا کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے کہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں فہرست طعام (uniform menu) وجود میں آجائے۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ ملک کے تمام مرد و عورت اور بوڑھے اور بچے ایک ہی قسم کا کھانا کھائیں اور ایک ہی قسم کا لباس پہنیں۔ اسی طرح یہ بھی یقینی طور پر ممکن نہیں ہے کہ ایک بڑے ملک کے تمام مرد و عورت
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues