Al-Risala · September 1995 · page 8

نہرو رپورٹ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۸

ہندوستان نے اس عالمی منشور پر قومی حیثیت سے اپنا دستخط ثبت کیا ہے۔ اس طرح مذہبی آزادی ہر ہندوستانی شہری کا ایک ایسا حق بن جاتی ہے جس کو کسی بھی حال میں ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ مذہب اور پرسنل لا سپریم کورٹ کی مذکورہ دو رکنی ڈویژن بنچ کے ا صفحہ کے فیصلہ (مئی ۱۹۹۵) میں اس قسم کی قانون سازی کا جواز یہ کہہ کر نکالا گیا ہے کہ نکاح و طلاق کے معاملہ کا تعلق مذہب سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ملکی قانون سے ہے۔ جسٹس کلدیپ سنگھ اپنے فیصلہ میں لکھتے ہیں کہ دستور کی دفعہ ۴۴ ہم اس تصور پر مبنی ہے کہ مہذب سماج میں مذہب اور پرسنل لا کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں۔ اس کی دفعہ ۲۵ مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے جب کہ دفعہ ۴۴ ہم سماجی تعلقات اور پرسنل لا کو مذہب سے الگ کر رہی ہے : Article 44 is based on the concept that there is no necessary connection between religion and personal law in a civilised society. Article 25 guarantees religious freedom whereas Article 44 seeks to divest religion from social relations and personal law. یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ مذہب کا تعلق، تمام علماء مذہب کے اتفاق کے مطابق، تین چیزوں سے ہے۔ عقیدہ، عبادت، اخلاقی اقدار (ethical values) اور اخلاقی اقدار میں بلا شبہ یہ بات سر فہرست ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان جائز جنسی تعلق کی صورت کیا ہو۔ نکاح کا تعلق اسی اخلاقی مسئلہ سے ہے، اس لیے وہ لازمی طور پر مذہب میں شامل ہے۔

مذہب اور پرسنل لا کا یہ تعلق اتنا زیادہ واضح ہے کہ خود ڈویژن بنچ کے اسی فیصلہ میں اس کا اعتراف موجود ہے۔ چنانچہ بنچ کے دوسرے رکن جسٹس آر این سہائے اپنے علاحدہ فیصلہ میں لکھتے ہیں کہ شادی، وراثت، طلاق، کنورزن اپنی نوعیت اور حیثیت میں اتنا ہی مذہبی ہیں جتنا کہ عقیدہ۔ آگ کے کنارے سات پھیر کرنا یا قاضی کے سامنے ایجاب و قبول کرنا بھی اتنا ہی عقیدہ اور ضمیر کا مسئلہ ہے جتنا کہ خود عبادت :

Marriage, inheritance, divorce, conversion are as much religious in nature and content as any other belief or faith. Going round the fire seven rounds or giving consent before Qazi are as much matter of faith and conscience as the worship itself.

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page