Al-Risala · September 1995 · page 7

نہرو رپورٹ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۷

مذہب کا یہ انتخاب فرد یا گروہ کی خود اپنی مرضی پر منحصر ہوگا۔ اسی لیے دفعہ ۲۵ کی تشریح (explanation I) میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کی مذہبی آزادی میں ان کا یہ حق بھی شامل ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق اپنے ساتھ کرپان (تلوار) رکھیں ۔ دستور میں "کلچرل رائٹس" کے تحت عمومی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کا کوئی بھی طبقہ جو اپنا الگ کلچر اور زبان رکھتا ہو ، اس کو حق ہوگا کہ وہ اپنے کلچر اور زبان کی حفاظت کرے (دفعہ ۲۹)

مزید یہ کہ مذہبی آزادی کی دفعہ جو دستور میں ہے وہ دستور کے اس حصہ میں ہے جس کا تعلق شہریوں کے بنیادی حقوق (fundamental rights) سے ہے ، جب کہ مذکورہ دفعہ ۴۴ دستور میں دیے ہوئے رہنما اصول (directive principles) کے تحت آئی ہے۔ اور خود دستور کی دفعہ ۳۷ کے مطابق ، اس کے رہنما اصولوں کی دفعات اس کے بنیادی حقوق کی دفعات کے تابع ہیں نہ کہ اس سے آزاد ۔

ایسی حالت میں دستور کی دفعہ ۴۴ کا حوالہ دے کر حکومت سے یہ کہنا کہ وہ یکساں سول کوڈ کو بذریعہ قانون ملک میں نافذ کرے ، خود دستور کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ جب تک ملک میں کوئی گروہ ایسا موجود ہے جو اس قسم کی قانون سازی کو اپنے مذہب میں بے جا مداخلت قرار دیتا ہے ، اس وقت تک خود دستور کی رو سے ایسا قانون بنانا ممکن نہیں۔ اور اگر کوئی پارلیمنٹ ایسا قانون بنائے اور ملک کا کوئی مذہبی گروہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں مرافعہ کرے تو عدالت عالیہ جو دستور کی محافظ ہے ، وہ یقینی طور پر ایسے قانون کو کالعدم قرار دے دے گی ۔

دستور ہند میں مذہبی آزادی کی دفعہ کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ یہ انسانی حقوق کے اس عالمی منشور (Universal Declaration of Human Rights) کے تحت ہے جس کو اقوام متحدہ نے ۱۹۴۸ء میں جاری کیا تھا ، اور جس کا ایک مستقل ممبر ہندوستان بھی ہے۔ اس منشور کے آرٹیکل ۱۸ میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ ہر آدمی کو مذہب کی آزادی ہوگی۔ اس میں مذہب بدلنے کی آزادی اور اپنے پسندیدہ مذہب پر عمل کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page