Gorbachov is back
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۴۹
مرکز کا انٹرو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ قرآن کے ٹکٹ میں اگر کوئی شخص تبدیلی کی بات کرتا ہے تو وہ ہرگز قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ البتہ اگر کوئی شخص قرآن کے کسی انٹرپٹیشن کو دوبارہ قابل غور بتاتا ہے تو اس میں کوئی ہرج کی بات نہیں۔
اندرا گاندھی فاؤنڈیشن کی طرف سے شملہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ایک کانفرنس ۵-۶ جولائی ۱۹۹۴ کو ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور "اچھا سماج کیسے بنایا جائے" کے موضوع پر اپنے خیالات پیش کئے۔
آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۱ جولائی ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ تقریر کا عنوان تھا ؛ کامیابی کا راز۔
الرسالہ کا ایک خصوصی نمبر زیر تیاری ہے۔ اس میں دکھایا جائے گا کہ الرسالہ کا مسلک عین وہی ہے جو تمام محقق علماء کا مسلک ہے۔ دونوں میں کوئی اختلاف نہیں۔
فیسٹول آف اسپربھول یونیٹی کے تحت لندن میں ستمبر ۱۹۹۴ کے پہلے ہفتہ میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے لندن کا سفر کیا۔ اس سلسلہ میں انگلینڈ کے دوسرے مقامات پر بھی مختلف پروگراموں میں شرکت کی۔ اس کی روداد سفر نامہ کے تحت انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
جین آچاریہ شری تلسی کے آشرم (نئی دہلی) میں ۲۴ جولائی ۱۹۹۴ کو تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس کا موضوع تھا: منش منش کی طرح رہے، وہ راکشس نہ بن جائے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلام کی روشنی میں ایک تقریر کی۔ دہلی کے انگریزی ہفت روزہ ریڈنس کے اسٹاف رپورٹر مسٹر سید علی احمد نے ۱۵ جولائی ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ اسلام میں ٹالرنس کی کیا اہمیت ہے اور ٹالرنس کی حد کیا ہے۔
سابق مرکزی وزیر بھاگے گور دھن وفات ۳۱ جولائی ۱۹۹۳ کے مکان واقع گول مارکٹ، نئی دہلی میں ۱۶ جولائی ۱۹۹۴ کو ایک میٹنگ ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مختصر تقریر کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ موضوع بحث تھا: ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues