تعلیم کی اہمیت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۹
ہوگا۔ ملاوٹی چیزیں سپلائی کرنے میں آپ کا ذاتی نفع بڑھتا ہو مگر آپ ایسا نہ کریں، کیوں کہ ایسا کرنے سے ملک کی ترقی رک جاتی ہے۔ ذاتی شکایت کے باوجود آپ قومی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں اور اقتصادی پہیہ کو روکنے کی کوشش نہ کریں، کیوں کہ اس میں ملک کی تباہی ہے۔ الیکشن میں اگر آپ ہار جائیں تو دل سے اپنی ہار کو مان لیں۔ کیوں کہ ہار نہ ماننے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کا پورا سیاسی نظام بگڑ جاتا ہے۔ اگر آپ ذمہ داری کے عہدہ پر ہیں تو اپنے مالی فائدہ کے لیے سکینڈل اور اسکیم میں ملوث نہ ہوں، کیوں کہ ایسا کرنے سے ملک کا اقتصادی ڈھانچہ تباہ ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو ایک بار حکومت مل جائے تو یہ نہ چاہیں کہ میں ہی ۴۵یشہ حکومت کی گدی پر بیٹھا رہاہوں۔ کیوں کہ اس قسم کی سیاسی خود غرضی ملک کے جمہوری ڈھانچہ کو تباہی اور بربادی کے آخری کنارہ سے پہنچادیتی ہے۔ اگر آپ لیڈر ہیں تو اپنے الکشنی مفاد کے لیے ایک گروہ کے اندر دوسرے گروہ کے خلاف نفرت اور خوف کے جذبات نہ پیدا کریں۔ کیوں کہ اس سے آپ کا ووٹ بنک تو بنے گا، لیکن ملک کا بینک دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا ۔ وغیرہ اسی کا نام سچی دیش بھگتی ہے۔ اور یہی ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔ مگر یہی چیز آج ہمارے ملک میں موجود نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے لوگ دیش بھگت کے بجائے خویش بھگت ہو گئے ہیں۔ ہر ایک اپنے فائدہ کی خاطر ملک کے فائدہ کو بھول گیا ہے۔ اسی خویش بھگتی نے ملک کا وہ برا حال کر دیا ہے جس کی آج ہر آدمی شکایت کر رہا ہے۔
دیش بھگتی کا من سولی کوڈ جیسی ظاہری کارروائیوں سے کبھی نہیں آئے گی ۔ بلکہ لوگوں کی سوچ کو تعمیری رخ دینے سے آئے گی۔ اس کے لیے ہمیں تمام ذرائع کو استعمال کر کے لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا ہوگا۔ ہمیں تعمیر شعور یا ذہنی بیداری کی ایک طویل اور ہمہ گیر مہم چلانی ہوگی۔ یہ بلاشبہ ایک مشکل کام ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی دوسری چیز اس کا بدل نہیں۔
تعلیم کی اہمیت
دستور ہند کے رہنما اصولوں کے تحت جو دفعات درج ہیں ان میں سے ایک اس کی دفعہ ہم ہے۔ یہ دفعہ کہتی ہے کہ ریاست یہ کوشش کرے گی کہ دستور کے نفاذ کے بعد دس سال کی مدت میں وہ تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کر دے ، یہاں تک کہ وہ چودہ سال کی عمر تک پہنچ جائیں :
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues