Al-Risala · September 1995 · page 30

تعلیم کی اہمیت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۰

غالباً بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہ دفعہ دستور کے رہنما اصولوں کے تحت درج شدہ دفعات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی یہی دفعہ سب سے زیادہ فراہم یہی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کبھی اس کی ضرورت نہیں سمجھی کہ وہ حکومت سے باز پرس کرے کہ دس سال کی مقرر مدت گزرنے کے باوجود اس دفعہ پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔

دستورِ ہند کا نفاذ ۲۶ نومبر ۱۹۴۹ کو ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نومبر ۱۹۵۹ میں دس سال کی یہ مقرر مدت پوری ہو گئی۔ مگر ملک کے تمام نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا نشانہ کسی بھی درجہ میں حاصل نہ ہو سکا۔

تعلیم کی اہمیت قومی تعمیر کے لیے اتنی زیادہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں کامن سول کوڈ کا معاملہ صرف ایک نان اشو کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ہمارا واحد لکاتی نشانہ صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہم ملک کی آبادی کو صد فی صد تعلیم یافتہ بنائیں۔ اس کے سوا جس چیز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا وہ اصل قابلِ لحاظ چیز سے توجہ کو ہٹانے (shift of emphasis) کے ہم معنی ہوگا۔ اور اس طرح توجہ کو اہم سے ہٹا کر غیر اہم میں الجھا دینا ایک قومی جرم ہے نہ کہ قومی خدمت۔

تعلیم کا تعلق اصلاً سروس سے نہیں ہے۔ تعلیم کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ شعور کی تربیت کرتی ہے۔ وہ آدمی کو صحیح طرز پر سوچنے والا بنا دیتی ہے۔ سماج یا قوم میں جتنے بھی مثبت اور مفید واقعات ہوتے ہیں وہ سب انھیں لوگوں کی دین ہوتے ہیں جو صحیح طرزِ فکر کے حامل ہوں ۔

صحیح طرزِ فکر آدمی کے اندر دور اندیشی پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کو بتاتا ہے کہ وہ اختلافات سے کس طرح نپٹے ۔ وہ آدمی کے اندر وہ بالغ نظری پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے مائنس کو پلس میں تبدیل کر سکے۔ اس سے آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کو جانتا ہے۔ وہ ظاہر سے گزر کر اندرونی حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے۔ صحیح طرزِ فکر سے صحیح عمل ظہور میں آتا ہے، اور صحیح عمل ہی کسی فرد یا گر وہ کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔

سماج میں یک جہتی اور اتحاد کی فضا بنانے کے لیے اصل ضرورت یہ نہیں ہے کہ لوگوں کا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page