Al-Risala · September 1995 · page 31

تعلیم کی اہمیت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۱

شادی بیاہ کا طریقہ ایک ہو ۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگ صحیح طرز فکر کے حامل ہوں، صحیح طرز فکر کیا ہے ، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوگا۔

سوامی ویویکانند (۱۹۰۲۔ ۱۸۶۳) کو ایک کرسچین بھائی نے اپنے مکان پر بلایا۔ کرسچین نے سوامی جی کو جانچنے کے لیے یہ کیا کہ اپنے ملاقات کے کمرہ میں ایک میز پر نیچے اور اوپر بہت سی مذہبی کتابیں رکھ دیں۔ سب سے نیچے ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن رکھی۔ اس کے اوپر مختلف مذہبوں کی کتابیں، اور سب سے اوپر اپنی مذہبی کتاب بائبل ۔ سوامی ویویکانند جب کمرہ میں داخل ہوئے تو کرسچین میزبان نے کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے، اس کے بارہ میں آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ سوامی جی کتابوں کی مذکورہ ترتیب کو دیکھ کر مسکرائے، اور کہا : فاؤنڈیشن تو بہت اچھی ہے۔

سوامی جی اگر اس معاملہ کو وقار (پر سٹیج) کا اشو بناتے تو وہ بگڑ جاتے۔ وہ کہتے کہ کیا تم نے مجھے ذلیل کرنے کے لیے یہاں بلایا تھا۔ اب دونوں میں تکرار شروع ہو جاتی۔ عین ممکن ہے کہ یہ تکرار بڑھ کر اس نوبت تک پہنچتی کہ امن قائم کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑتا۔ لیکن سوامی جی نے اس کو وقار کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس کو اعراض کا مسئلہ بنا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو معاملہ دونوں کو لڑائی تک پہنچاتا، وہ دونوں کے درمیان مسکراہٹ کے تبادلہ پر ختم ہو گیا۔ یہ قابل قدر واقعہ کیوں پیش آیا۔ کیا اس لیے کہ سوامی ویویکانند اور مذکورہ کرسچین کا شادی بیاہ کا طریقہ ایک تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ کیوں کہ ان میں سے ایک ہندو تھا اور دوسرا عیسائی۔ اور ہندوؤں اور عیسائیوں میں شادی بیاہ کا طریقہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔

اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ سوامی ویویکانند ایک ایسے آدمی تھے جن کی اعلیٰ تعلیم نے ان کو حد درجہ باشعور بنا دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ کس طرح کسی واقعہ کو منفی رخ دینے کے بجائے اس کو مثبت رخ دیا جا سکتا ہے۔ وہ سوچنے کا آرٹ جانتے تھے۔ وہ زندگی کی سائنس سے واقفیت رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کس طرح اختلاف کے باوجود اتحاد کے ساتھ رہا جا سکتا ہے۔ اس کا راز سوامی جی کی شعوری بیداری تھا نہ کہ کسی قسم کا مشترک سول کوڈ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page