معجزہ کیا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲
معجزہ کیا ہے
معجزہ کے لفظی معنی ہیں عاجز کر دینے والا۔ پیغمبروں کو معجزات اسی لیے دیے گئے تاکہ لوگ ان کی صداقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ معجزہ کو مخاطب کے اپنے میدان کے اعتبار سے معجز ہونا چاہیے۔ کیوں کہ آدمی کو جب تک اپنے مخصوص میدان میں عجز کا تجربہ نہ ہو، وہ صحیح طور پر اس کی اعجازی حیثیت کا احساس نہیں کر سکتا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام ، جن کا زمانہ چودھویں اور تیرھویں صدی قبل مسیح ہے، انھوں نے مصر کے جادوگروں کے سامنے دعوتی تقریر کی۔ مگر وہ اس سے متاثر نہ ہو سکے۔ لیکن جب انھوں نے جادوگروں کے سانپوں کے مقابلہ میں زیادہ بڑے سانپ کا کرشمہ دکھایا تو تمام جادو گر سجدہ میں گر پڑے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے نظریاتی دلائل کا وزن محسوس کرنے کے باوجود اپنے مخصوص میدان میں پھر بھی وہ اپنے آپ کو موسیٰ سے فائق سمجھ رہے تھے۔ مگر موسیٰ کا عصا جب ان کے سانپوں سے زیادہ بڑا سانپ بن کر ظاہر ہوا تو حضرت موسیٰ کی عظمت آخری طور پر ان کے اوپر منکشف ہوگئی۔ اس کے بعد ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ دل سے حضرت موسیٰ کا اعتراف کر لیں۔ اسی لیے پیغمبروں کو جو معجزہ دیا جاتا ہے وہ مخاطب کے اپنے میدان کے اعتبار سے دیا جاتا ہے۔ مصر کے جادوگروں کو یہ فخر تھا کہ وہ رسیوں کو سانپ کی صورت دے سکتے ہیں۔ تو حضرت موسیٰ کے عصا کو زیادہ بڑا سانپ بنا کر انھیں دکھایا گیا۔ شام و فلسطین کے طبیب عام مریضوں کو اچھا کرتے تھے تو حضرت مسیح کو یہ خصوصیت دی گئی کہ ناقابل علاج امراض میں مبتلا لوگ صرف ان کے چھونے سے اچھے ہو جائیں۔ عرب کے لوگوں کو اپنے ادب پر فخر تھا تو پیغمبر اسلام کو قرآن کی صورت میں ایسا برتر ادبی نمونہ دیا گیا جس کے آگے ان کے تمام ادبی شہ پارے ہیچ نظر آنے لگے اور کہنے والے کہہ پڑے کہ: ابعد القرآن۔ خدا کا داعی اپنی ذات میں اپنی صداقت کا ثبوت ہوتا ہے۔ مگر مخاطبین عام طور پر اس کا ادراک نہیں کر پاتے۔ اس وقت خدا یہ کرتا ہے کہ مخاطبین کی اپنی فوقیت کے میدان میں انھیں داعی کے مقابلہ میں زیر کر دیتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ داعی حق کی صداقت اس کے مخاطبین کے اوپر ناقابل انکار درجہ میں واضح ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues