Al-Risala · September 1995 · page 34

قرآنی اصول

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۴

قرآنی اصول

قرآن میں ازدواجی زندگی کے احکام کے ذیل میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ زندگی گزارو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لئے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو (و عاشروهن بالمعروف فان كرهتموهن فعسى ان تكرهوا اشيا ويجعل الله فيه خيرا كثيراً، النساء ۱۹ اس قرآنی تعلیم کا تعلق صرف میاں اور بیوی سے نہیں ہے۔ وہ تمام انسانی تعلقات کے لئے عام ہے۔ خدا کی اس دنیا میں کامیاب اجتماعی زندگی گزارنے کا واحد اہم اصول یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد شعوری طور پر اس کو یاد رکھیں کہ کسی کی کوئی روش اگر ان کی پسند کے خلاف ہے تو خود اسی کے اندر کوئی اور صفت ہوگی جو ان کی پسند کے مطابق اور مفید ہوگی۔ اس لئے ہر ایک کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ متعلق مرد یا عورت کی ناپسندیدہ صفت کو نظر انداز کر کے اس کی پسندیدہ صفت کی بنیاد پر اس کو اپنا لے۔

اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی کامل نہیں۔ ہر ایک کے اندر کوئی نہ کوئی کمی پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جس مرد یا عورت کا ہم تجربہ کر رہے ہوتے ہیں، اس کی کمی ہمارے علم میں آجاتی ہے۔ اور جس مرد یا عورت کا ہمیں عملی تجربہ نہیں ہوا اس کی کمی ہمارے علم میں نہیں آتی۔ اس لئے ہم غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ باقی لوگ تو اچھے ہیں، صرف یہ شخص بُرا ہے۔ حالاں کہ ایک کو چھوڑ کر جب ہم دوسرے سے معاملہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا آدمی بھی ویسا ہی تھا جیسا کہ پہلا آدمی۔

اس لئے یہ ذہن درست نہیں کہ اس کو چھوڑ کر فلاں کو پکڑو۔ اس کے بجائے صحیح بات یہ ہے کہ نباہ کا ذہن پیدا کیا جائے۔ کامل کی تلاش آدمی کو کہیں نہیں پہنچاتی۔ اور نباہ کی روش آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ ہر ایک کے ساتھ زندگی گزارے، وہ ہر ایک کے ساتھ مل کر اپنے لئے کامیاب زندگی کی تعمیر کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page