Al-Risala · September 1995 · page 40

کل کا مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۰

(۲۱۔ ۲۳ اپریل ۱۹۹۵) میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں سفرنامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔

۲۱ سنٹر فار پروموشن آف آلٹرنیٹو انسٹی ٹیوشنس نئی دہلی کے تحت ۲۹ اپریل ۱۹۹۵ کو نوائیڈا میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع تھا : ریلیجن اینڈ ماس میڈیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ۲۲ ایک مسلم تنظیم کی دعوت پر مئی ۱۹۹۵ کے پہلے ہفتہ میں کلکتہ اور مرشد آباد (بنگال) کا سفر ہوا۔ اس سفر میں متعدد خطابات ہوئے نیز ملاقات اور گفتگو کے پروگرام ہوئے۔ اس کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں سفرنامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔

۲۳ ہندی روزنامہ دینک ہمالیہ درپن کے دہلی کے نمائندہ مسٹر پر دیپ ٹھاکر نے ۶ مئی ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کے تستی کرن یا ووٹ بنک کی سیاست کا سبب مسلمانوں کا احساس عدم تحفظ ہے۔ اگر صحیح رہنمائی کے ذریعہ مسلمانوں کے اندر سے عدم تحفظ کے احساس کو نکال دیا جائے تو مسلمانوں کے ایکسپلائٹیشن کی یہ سیاست بھی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ ۲۴ آکاش در شن انٹر پرائز (دہلی) نے ۷ مئی ۱۹۹۵ کو دور درشن کے لئے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق حج سے تھا۔ حج کا تاریخی پس منظر، اس کی شرعی اہمیت، اس کے مختلف قواعد کو سادہ انداز میں بتایا گیا۔

۲۵ فرنچ نیوز ایجنسی کے نمائندہ مسٹر نارائن سوامی نے ۱۱ مئی ۱۹۹۵ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ خاص سوال یہ تھا کہ آج کے اخباروں میں سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ چھپا ہے کہ حکومت دستور ہند کی دفعہ ۴۴ کے تحت کامن سول کوڈ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کارروائی کرے۔ جواب دیا گیا کہ خالص دستوری اعتبار سے یہ درست فیصلہ ہو سکتا ہے مگر عملاً وہ نا ممکن ہے۔ دستور کی بہت سی چیزیں (مثلاً ہندی کو پندرہ سال میں واحد قومی زبان بنانا) ساری کوشش کے باوجود عمل میں نہ آ سکا۔ اسی طرح کامن سول کوڈ بھی موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں۔ کیوں کہ ہندوستانی سماج ۹۹ فیصد سے زیادہ روایتی سماج ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page