صبر و توکل
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴
صبر و توکل
والذين هاجروا في الله من بعد ما ظلموا اور جن لوگوں نے اللہ کے لئے اپنا وطن چھوڑا، لنبوئنهم في الدنيا حسنة ولاجر الآخرة بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا، ہم ان کو دنیا میں اكبر لو كانوا يعلمون - الذين صبروا و ضرور اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا ثواب تو على ربهم يتوكلون (النحل -۴۱-۴۲) بہت بڑا ہے، کاش وہ جانتے۔ وہ ایسے ہیں جو صبر کرتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کے ساتھ توکل کا نہایت گہرا تعلق ہے۔ صبر ایک عظیم دینی عمل ہے۔ مگر اس دنیا میں صبر کی روش پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو اللہ رب العالمین کی ذات پر بے پناہ بھروسہ رکھتے ہوں۔
اس آیت میں جن اہل ایمان کا ذکر ہے، یہ وہ لوگ تھے جن پر ان کے مخالفوں نے ظلم کیا۔ مگر وہ منفی ردعمل میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے اندر یہ جذبہ نہیں بھڑکا کہ وہ ظالموں کو سبق سکھائیں۔ یا ان سے ان کے ظلم کا انتقام لیں۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ اس مقام سے ہٹ گئے جہاں ان کے اوپر ظلم ہورہا تھا۔ وہ انسانوں سے الجھنے کے بجائے خدا کی طرف متوجہ ہوگئے۔
ان کے اس عمل، ہجرت کو قرآن میں صبر کہا گیا۔ اور پھر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا پر توکل کرنے والے ہیں۔ صبر کے ساتھ توکل کا ذکر نہایت اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی صبر کے طریقہ پر قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے اندر توكل على الله کی صفت نہ ہو۔ ناموافق صورتحال پیش آنے کے بعد جو آدمی بے برداشت ہو کر لڑنے لگے، وہ اپنی اس روش سے ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف اپنی ذات کو جانتا تھا۔ وہ خدا کی برتر طاقتوں سے واقف نہ تھا۔ اگر وہ خدا کی خدائی کو اور اس کے وعدوں کو جانتا تو وہ صبر کرتا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا کہ صبر کرنے میں زیادہ بڑی طاقت کو اپنے مخالف کے مقابلہ میں کھڑا کر رہا ہوں۔ یہ طاقت خود مالک کائنات کی ہے جس کی پکڑ سے بچنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues