Al-Risala · October 1995 · page 5

عافیت کی زندگی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۵

عافیت کی زندگی

لما قدم حاتم الاصم الی الامام احمد قال حاتم اصم جب امام احمد کے پاس آئے تو امام احمد لہ الامام: اخبرنی کیف السلامة من الناس۔ نے ان سے کہا کہ مجھے بتائیے کہ لوگوں سے محفوظ فقال حاتم بثلاثة اشیاء تعطيهم من کیسے رہا جائے۔ حاتم اصم نے کہا کہ تین چیزوں کے مالك ولا تاخذ من مالهم وتقضی لهم ذریعہ سے۔ ان کو اپنا مال دیں مگر خود ان کا مال حقوقهم ولا تطالبهم بحقوقك وتصبر علی نہ لیں۔ لوگوں کے حقوق ادا کریں مگر اپنے حقوق اذاهم ولا تؤذيهم (الدعوة الرياض، ۲۰ ذی القعد ان سے نہ مانگیں۔ لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کریں ۱۴۱۵ھ) اور خود ان کو ایذا نہ پہنچائیں۔

ان تینوں باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ایک طرفہ طور پر لوگوں کو یہ احساس دلا دیں کہ وہ آپ سے پوری طرح محفوظ ہیں۔ اس کے بعد آپ بھی ان سے پوری طرح محفوظ ہو جائیں گے۔ لوگوں کو یہ احساس تین تدبیروں کے ذریعہ دلایا جا سکتا ہے۔

لوگوں کے پاس جو کچھ ہے، اس سے اپنے آپ کو مستغنیٰ بنالیں۔ مگر آپ کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے آپ لوگوں کو حسب توفیق ان کا حصہ پہنچاتے رہیں۔ آپ لوگوں سے لینے والے نہ بنیں، اس کے بجائے آپ لوگوں کو دینے والے بن جائیں۔

لوگوں کا جو حق آپ کے اوپر ہو اس کی ادائیگی میں آپ کوئی کوتاہی نہ کریں۔ مگر دوسروں کے اوپر آپ کا جو حق آتا ہو، اس کو دوسروں سے وصول کرنے کی کبھی کوئی ہہم نہ چلائیں۔ معاشرتی زندگی میں بار بار ایسا ہوگا کہ دوسروں کی طرف سے آپ کو تکلیف پہنچے گی ۔ اس طرح کے مواقع پر آپ ایک طرفہ صبر و تحمل کی پالیسی کو اختیار کر لیں، آپ صرف اتنا ہی نہ کریں کہ دوسروں کو آپ ایذا نہ پہنچائیں، بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کا رویہ یہ بن جائے کہ دوسروں کی ایذاؤں پر آپ صبر کر لیں، آپ لوگوں سے بدلہ لئے بغیر انہیں معاف کر دیں۔ دنیا میں عافیت کی زندگی حاصل کرنے کا یہی واحد یقینی نسخہ ہے۔ اس کے سوا جو تدبیر اختیار کی جائے گی وہ امن و عافیت دینے والی نہیں بن سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page