انتظامی حکمت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۹
انتظامی حکمت
الرجال قوامون على النساء بما فضل الله مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں، اس بنا پر کہ بعضهم على بعض وبما انفقوا من اموالهم اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ فالصالحات قانتات حافظات للغيب اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کئے ۔ پس بما حفظ الله (النساء (۳۴) جو نیک عورتیں ہیں وہ فرماں برداری کرنے والی، پیٹھ پیچھے نگہبانی کرتی ہیں اللہ کی حفاظت سے۔
خاندان، وسیع تر انسانی نظام کا، ایک ابتدائی جز (یونٹ) ہے۔ اس ابتدائی وحدت کو دو فرد، مرد اور عورت ، مل کر چلاتے ہیں۔ زیادہ بڑے نظاموں کی طرح گھر کا چھوٹا نظام بھی صحیح طور پر صرف اسی وقت چل سکتا ہے جب کہ دونوں میں سے ایک حاکم ہو، اور دوسرا اس کے مقابلہ میں ماتحت حیثیت قبول کرے۔ دونوں یکساں درجہ میں صاحب حکم ہوں تو اس نظام کا چلنا ہی ناممکن ہو جائے گا۔ مذکورہ آیت میں اسی حکمت کو بتایا گیا ہے۔ آیت میں فضل کا لفظ ہے۔ فضل کے معنی عربی زبان میں زائد کے ہیں (لسان العرب ۵۲۶/۱۱) اللہ تعالیٰ نے مذکورہ مصلحت کی بنا پر عورت اور مرد دونوں میں سے ہر ایک کو ایک زائد خصوصیت پیدائشی طور پر عطا فرمائی ہے جو نظام فطرت میں کامیاب کارکردگی کے لئے انھیں درکار تھی۔ مرد کی خصوصیت زائدہ یہ ہے کہ وہ کمانے اور خرچ اٹھانے کی اضافی صلاحیت رکھتا ہے اس کے مقابلہ میں عورت کی اضافی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اندر قنوت (اطاعت) کا مزاج نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ گویا عورت اور مرد کو گھر کا نظام چلانے کے لئے الگ الگ جو صفات درکار ہیں وہ پیشگی طور پر دونوں کے اندر پیدا کر دی گئی ہیں۔
عورت اور مرد دونوں کے لئے پسندیدہ بات یہ ہے کہ وہ اس پورے معاملے کو آزمائش کی نظر سے دیکھیں ۔ ہر ایک کی توجہ اس پر ہو کہ اس کو جس کارخانہ کے لئے بنایا گیا ہے اس کا یہ خاص کو اسے بحسن و خوبی انجام دینا ہے۔ اسی حسن کار کردگی پر آخرت میں ان کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues