دعوت اور اصلاح
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۸
دعوت اور اصلاح
مئی 1995ء کو دہلی میں ساؤتھ افریقہ کے دو نوجوانوں سے ملاقات ہوئی ـــــ فیصل چوتھیا صاحب اور غلام محمد صاحب، انھوں نے سوال کیا کہ دعوت اور اصلاح میں کیا رشتہ ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ دعوت کا کام کرنے سے خود اپنی اصلاح ہوتی ہے۔ مگر یہ بات ابھی تک ہماری سمجھ میں نہ آسکی۔ میں نے کہا کہ دعوت اور اصلاح میں گہرا رشتہ ہے۔ اور یہ عین انسانی نفسیات کے مطابق ہے۔ نفسیات کا علم بتاتا ہے کہ آدمی خارجی طور پر جس کام میں مشغول ہو، اندرونی طور پر بھی وہ اسی کام میں مشغول ہوتا ہے۔ خارجی عمل اور داخلی حالت کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
ایک سچا داعی جس نے دعوت کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا ہو، وہ کیا کرتا ہے۔ اس کو ایک جلسہ میں اسلام کی دعوت پیش کرنا ہے۔ اب وہ یہ کرے گا کہ سب سے پہلے قرآن وحدیث اور دوسری کتابوں میں موضوع کا مطالعہ کرے گا۔ وہ غور کر کے اپنی تقریر کے نکات مقرر کرے گا۔ وہ دعا کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذہن کو کھول دے اور اس کے دل میں وہ صحیح بات ڈال دے جو اس کو اجتماع عام میں کہنا چاہئے۔ پھر وہ دو رکعت صلاة الحاجہ پڑھ کر دعا کرے گا کہ خدایا، میری مدد فرما۔ مجھ سے وہ بات کہلا دے جو تیری مرضی کے مطابق ہو۔ جب وہ اجتماع گاہ میں پہنچے گا تو بار بار دعا کرے گا کہ: رب اشرح لي صدري ويسر لي أمري واحلل عقدة من لساني يفقهوا قولی۔ اس طرح ایک سچے داعی کی زندگی میں 'دعوت' کا عمل شروع ہونے سے پہلے' اصلاح' کا عمل شروع ہوجاتا ہے، دوسروں کو مخاطب بنانے سے پہلے وہ خود دعوت حق کا مخاطب بن جاتا ہے۔ پھر جب وہ لوگوں کے سامنے آتا ہے تب بھی بار بار وہ دل ہی دل میں دعا کرتا رہتا ہے۔ بظاہر وہ بندوں کے سامنے ہوتا ہے مگر حقیقتاً وہ اللہ سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت عین اسی وقت اصلاح بھی ہے۔ دوسروں کو پیغام پہنچانا خود اپنے آپ کو بھی مخاطب بنانا ہے۔ جو آدمی صحیح معنی میں دعوتی عمل میں مشغول ہو وہ اسی کے ساتھ لازمی طور پر خود اپنی اصلاح کے عمل میں بھی مشغول ہوجاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues