ایک شرعی مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۲
نمائندہ تحریکیں قرار پائیں ۔ لوگ یہ رائے قائم کریں کہ یہی اسلام کا اصل مطلوب عمل ہے ۔ اسلام تشدد کا مذہب ہے ۔ وہ دوسرے مذاہب یا نظاموں کے ساتھ موافقت کر کے رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ اس مقالہ میں مجھے اسی مسئلہ کا علمی جائزہ لینا ہے ۔
اسلام بنیادی طور پر ایک امن پسند مذہب ہے ۔ اسی لیے پیغمبر اسلام کو رحمۃ للعالمین (الانبیاء ، ١٠٧) کہا گیا ہے ۔ یعنی سارے عالم کے لیے رحمت ۔ گویا کہ پیغمبر اسلام پیغمبر رحمت ہیں نہ کہ پیغمبر حرب ۔ آپ کا طریقہ عدم تشدد (non-violence) ہے نہ کہ تشدد (violence)
تاہم موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں اختلاف اور نزاع کا پیش آنا لازمی ہے ۔ ایک فرد اور دوسرے فرد ، اسی طرح ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے ۔ ایسی حالت میں کیا کیا جائے ۔ اس کا جواب صبر ہے ۔ قرآن میں بہت زیادہ صبر کی تلقین کی گئی ہے ۔ حتیٰ کہ اگر براہ راست احکام کے ساتھ بالواسطہ احکام کو شامل کر لیا جائے تو پورا قرآن کتاب صبر نظر آئے گا ۔ صبر و اعراض کا مطلب یہ ہے کہ ناخوش گوار باتیں پیش آنے کی صورت میں رد عمل کا انداز اختیار نہ کیا جائے بلکہ ایک طرفہ طور پر برداشت کر لیا جائے تاکہ جو شکایتی بات پیدا ہوئی ہے وہ اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جائے ۔
اس کے باوجود ایسی حالتیں پیش آسکتی ہیں جب کہ بات بڑھ جائے ۔ ابتدائی شکایت باقاعدہ نزاع کی صورت اختیار کرنے لگے ۔ اس وقت اہل اسلام کو کیا کرنا چاہیے ۔ اس سلسلہ میں ایک اصولی ہدایت دی گئی کہ (الصلح خیر (النساء ، ۱۲۸) یعنی صلح کر لینا بہتر ہے ۔ قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا ہے کہ الحرب خیر (جنگ بہتر ہے) مگر یہ فرمایا کہ الصلح خیر (صلح بہتر ہے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزاعی امور میں اسلام کی اسپرٹ صلح ہے نہ کہ حرب ۔
اس طرح عدم نزاع کو اسلام نے ایک بنیادی اجتماعی اصول کی حیثیت دے دی ہے ۔ خواہ فرد اور فرد کے درمیان کا معاملہ ہو یا گروہ اور گروہ کے درمیان کا معاملہ ، ہر موقع پر اصلاً اس اصولی ہدایت کو ملحوظ رکھنا ہے کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے ۔ اور اگر بالفرض ٹکراؤ پیش آجائے تو پہلی فرصت میں صلح کا طریقہ اختیار کر کے نزاع کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ کیوں کہ ٹکراؤ ہمیشہ مسئلہ کو بڑھاتا ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں مسئلہ کا حل نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues