Al-Risala · October 1995 · page 13

مسلم حکمران کا معاملہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۳

مسلم حکمران کا معاملہ

اجتماعی نزاعات کی سب سے زیادہ سنگین صورت وہ ہے جو عوام اور حکمران کے درمیان پیش آتی ہے۔ اس کو ایک لفظ میں سیاسی نزاع بھی کہا جا سکتا ہے۔ انسانوں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ خود خواہ ہے ہی ہوں، مگر حکمران طبقہ کو وہ ہمیشہ آئیڈیل کے معیار سے ناپتے ہیں، جب کہ آئیڈیل کا حصول اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا گروہ حکمران بنتا ہے، فوراً ہی لوگوں کو اس سے شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ یہ شکایت بڑھ کر کبھی ٹکراؤ اور جنگ تک پہنچ جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں احادیث میں نہایت تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ ہدایات تمام کی تمام عملی نوعیت (practical wisdom) پر مبنی ہیں۔ یعنی ناممکن کی چٹان سے سر ٹکرانے کے بجائے ممکن کے میدان میں کوششوں کو موڑ دینا۔

یہ ہدایات خاص طور پر حدیث کی کتابوں میں ابواب الفتن کے تحت دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ حدیثیں طے ہوئے حکمرانوں کے بارہ میں شرعی حکم کو بتاتی ہیں۔ وہ حکم یہ ہے کہ ایسے حکمرانوں سے ہرگز سیاسی ٹکراؤ نہ کیا جائے۔ بلکہ ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اپنے آپ کو غیر سیاسی دائرہ میں مصروف رکھا جائے۔ ان روایات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرما دیا تھا کہ میرے بعد تم اپنے حکمرانوں کو بہت بگاڑ دیکھو گے۔ لیکن بگاڑ اور نا انصافی کے باوجود تم ان کے خلاف خروج (بغاوت) نہ کرنا۔ ہر حال میں صبر کے اصول پر قائم رہنا۔ تم کسی بھی عذر کو لے کر حکمرانوں سے لڑائی نہ کرنا۔ بلکہ اپنی بکری یا اونٹ میں مشغول ہو کر اپنے ضروری دینی فرائض کو ادا کرتے رہنا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ واضح اور قطعی ہدایت حدیث کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ خلافت راشدہ کے بعد مسلمانوں کے نظام حکومت میں بہت زیادہ بگاڑ آگیا۔ مگر مسلم علماء نے حکمرانوں کے خاتمہ کے لیے کبھی کوئی مخالفانہ سیاسی مہم شروع نہیں کی۔ بنوامیہ، بنو عباس اور دوسرے خاندانوں میں خود آپس میں تو مختلف صورتوں میں ٹکراؤ پیش آیا۔ مگر صحابہ، تابعین، تبع تابعین، فقہاء اور محدث نے کبھی اصلاح سیاست کا نام لے کر ان کو سیاست سے بے دخل کرنے کی تحریک نہیں چلائی۔ یہ بات نہ صرف عملی طور پر ہوئی۔ بلکہ نظری طور پر تمام علماء نے اس پر اتفاق رائے کر لیا۔ تمام علماء فقہاء نے متفقہ طور پر یہ فتویٰ دیا کہ ایک مسلم حکمران جس کی حکومت عملاً قائم ہو گئی ہو، خواہ بظاہر وہ ظالم

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page