Al-Risala · October 1995 · page 15

مسلم حکمران کا معاملہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵

اور بربادی کے سوا کوئی اور تحفہ نہ دے سکہ بےں ۔ خدا کی اس دنیا میں کسی غیر اسلامی عمل سے کبھی کوئی سلامی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔

مسلمانوں کو سیاسی نزاع سے روکنے کا مطلب ان کو بے عملی کی طرف لے جانا نہیں ہے ۔ بلکہ اس اصل مقصد یہ ہے کہ ان کو بے فائدہ عمل کے میدان سے نکال کر مفید عمل کے میدان میں سرگرم کیا جائے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کی دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں یہ مسائل زندگی کبھی کسی کو ملنے والی نہیں۔ اگر آپ سیاسی مسئلہ کو ختم کرنے کے نام پر جنگ چھیڑیں تو جب آپ سیاسی مسئلہ کو ختم کر چکے ہوں گے، اس کے بعد پھر کوئی نیا مسئلہ آپ کے سممکنے کھڑا ہو جائے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ برصغیر ہند کے علماء نے انگریزی مسئلہ کو ختم کرنے کے نام پر قربانیاں دیں۔ مگر جب انگریزی مسئلہ ختم ہو گیا تو معلوم ہوا کہ اکثریتی بالادستی کی صورت میں ایک نیا مسئلہ یہاں ان کے لیے موجود ہے۔ مصر میں اخوانیوں نے شاہ فاروق کو سیاسی مسئلہ سمجھ کر ان کے خلاف بغاو ت کی۔ مگر شاہ فاروق کے خاتمہ کے بعد دوبارہ فوجی ڈکٹیٹر شپ کا شدید تر مسئلہ ان کے سامنے موجود تھا۔ پاکستان کے اسلام پسندوں نے ایوب اور بھٹو کو مسئلہ سمجھ کر ان کے خلاف ہنگامہ خیز مہم چلائی۔ مگر ایوب اور بھٹو کا خاتمہ کسی بھی درجہ میں مسائل کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بن سکا۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں مسائل ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ایسی حالت میں مسائل سے لڑانا صرف ایک نادانی کا فعل ہے۔ موجودہ دنیا میں عمل کا صحیح طریقہ صرف ایک ہے ــــ مسائل کو نظر انداز کرنا اور مواقع کو استعمال کرنا ۔ یہی اسلام کا حکم ہے ، اور یہی عقل کا تقاضا بھی ۔ مسائل رخی جد و جہد موجودہ دنیا میں کبھی کسی مفید نتیجہ تک پہنچنے والی نہیں۔ اس قسم کی جد و جہد کا واحد انجام صرف یہ ہے کہ ایک مسئلہ کو ختم کرنے کے نام پر ٹکراؤ کیا جائے ، اور جب وہ مسئلہ ختم ہو تو اس کے بعد نئے پیش آمدہ مسئلہ کے نام پر دوبارہ احتجاج یا ٹکراؤ کی نئی مہم شروع کر دی جائے۔ اور بے فائدہ قربانیوں کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے ۔

مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرنا حالت موجودہ پر ٹھہراؤ نہیں ہے یہ در اصل ممکن میدان سے ہٹ کر ممکن میدان میں اپنی طاقت کو استعمال کرنا ہے۔ اور ساری تاریخ نا تجر بہ بتاتا ہے کہ جو لوگ امن میدان میں اپنی طاقت صرف کریں وہ آخر کار ممکن کو بھی پا لیتے ہیں اور نا ممکن کو بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page