Al-Risala · October 1995 · page 14

مسلم حکمران کا معاملہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴

اور فاسق کیوں نہ ہو، اس کے خلاف خروج (بغاوت) کرنا جائز نہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں میں صرف ایک حوالہ دوں گا۔ امام نووی کچھ احادیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

" اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ارباب اقتدار سے ان کے اقتدار کے معاملہ میں نزاع نہ کرو اور نہ ہی ان کے اوپر اعتراض کرو، الا یہ کہ تم ان میں کوئی ایسا ثابت شدہ منکر فعل دیکھو جس کو تم اسلام کے بنیادی امور میں سے جانتے ہو۔ پس جب تم ایسی چیز دیکھو تو تم ان پر نکیر (قولی نصیحت) کرو۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہو حق بات کہو۔ باقی ان کے خلاف خروج (عملی بغاو ت) اور ان سے جنگ تو وہ اجماع مسلمین کے تحت حرام ہے ، خواہ یہ حکمراں فاسق اور ظالم کیوں نہ ہوں (واما الخروج عليهم وقتالهم فحرام باجماع المسلمين وان كانوا فسقة ظالمين) ، اور یہ جو مفہوم میں نے بیان کیا اس کی تائید میں کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں۔ اور اہلِ سنت کا اس پر اجماع ہے کہ حکمران فسق کی بنا پر معزول نہیں ہوتا۔ اور فسق کی بنا پر حکمران کے معزول ہو جانے کی بات جو فقہ کی کتابوں میں ہمارے بعض اصحاب نیز معتزلہ کی طرف منسوب کر کے بیان ہوئی ہے وہ غلط ہے اور اجماع کے خلاف ہے۔ علماء نے ایسے حکمراں کے معزول نہ ہونے اور اس کے خلاف خروج کے حرام ہونے کا سبب یہ بتایا ہے کہ اس کے نتیجہ میں بدامنی اور خوں ریزی اور آپس کے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ پس اس کی معزولی دیا اس کے خلاف خروج) کی صورت میں اس سے زیادہ بگاڑ اور فساد برپا ہو گا جتنا کہ اس کے بر سر اقتدار رہنے کی صورت میں تھا ۔ “ (صحیح مسلم بشرح النووی ۱۲/ اس شرعی اصول پر جائیے تو معلوم ہوگا کہ مسلم ملکوں میں اٹھنے والی وہ تمام تحریکیں باطل تحریکیں تھیں جو موجودہ صدی میں مسلم حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے اٹھیں۔ بظاہر ان کا نعرہ تھا کہ وہ فاسق حاکموں کو ہٹانا چاہتے ہیں تاکہ شرعی قانون کا نظام قائم کر سکیں۔ مگر حقیقتہ یہ شرعی قانون کی نفی تھی۔ کیوں کہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایک مسلم حکمراں جس کی حکومت عملاً قائم ہو چکی ہو، اس کے خلاف کسی بھی حال میں خروج (بغاوت) نہ کرو۔

اس قسم کی تمام تحریکیں، مذکورہ شرعی حکم کے مطابق، نا جائز تحریکیں تھیں۔ کیوں کہ وہ قائم شدہ مسلم حکمراں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے اٹھائی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر شور تحریکوں سے کوئی مثبت اسلامی نتیجہ بر آمد نہ ہو سکا۔ بے پناہ قربانیوں کے باوجود وہ اپنے ملکوں کو تباہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page