Al-Risala · October 1995 · page 17

غیر مسلم حکمران کا معاملہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۷

معلوم ہوا کہ اس ممانعت کی اصل علت شدید تر برائی کا پیدا ہونا ہے۔ یہ شدید تر برائی اس وقت بھی پوری طرح ظہور میں آئے گی جب کہ حکمراں غیر مسلم ہو۔ گویا دونوں جگہ علت کا اشتراک پایا جا رہا ہے۔ اور جب علت مشترک ہے تو شرعی اصول کے مطابق حکم بھی مشترک ہوگا۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت میں جس طرح غیر عادل مسلم حکمراں کے خلاف بغاوت نا جائز ہے اسی طرح غیر مسلم حکمراں کے خلاف بھی بغاوت نا جائز ہے خواہ وہ لوگوں کو غیر عادل کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خاص مسئلہ میں مسلم حکمراں اور غیر مسلم حکمراں کا فرق محض اضافی ہے کیونکہ حکمراں کے خلاف خروج کی ممانعت اس لیے نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ یہ ممانعت صرف اس لیے ہے کہ اس قسم کا فعل زیادہ بڑا شر پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ ایسا اقدام عملی طور پر الٹے نتیجہ والا (counter-productive) ثابت ہوگا۔ اٹھنے والا اپنے خیال کے مطابق تو ظلم کو ختم کرنے کے لیے اٹھے گا۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے عظیم تر ظلم ظہور میں آئے گا۔

ایسا ہونا بالکل یقینی ہے۔ کیوں کہ حکمراں کسی معاشرہ کا وہ عنصر ہے جس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہوتی ہیں۔ جب اس کے وجود کو چیلنج کیا جائے گا تو لازماً وہ اپنے وجود کی حفاظت کے لیے اپنی ان طاقتوں کو استعمال کرے گا۔ اس کے بعد تشدد، خوں ریزی، اموال کی تباہی ، امن و امان کا غارت ہو جانا جیسے یقینی نتائج رونما ہوں گے۔ چھوٹی برائی کو دور کرنے کی کوشش میں زیادہ بڑی برائی پیدا ہو جائے گی۔

گویا یہاں حکم کی جو علت ہے وہ حکمراں کا مسلم ہونا نہیں ہے بلکہ حکمراں کا اس پوزیشن میں ہونا ہے ، وہ خروج کا عمل پیش آنے کے بعد پورے معاشرہ کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گا۔ سیاسی خروج کی حرمت کا سبب حاکم کا مسلمان ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل سبب ترتب فتنہ ہے۔ اور قیاس شرعی کے مطابق، جب علت مشترک ہے تو حکم بھی مشترک ہو جائے گا۔ یعنی غیر مسلم حکمراں کے خلاف خروج بھی اسی طرح نا جائز قرار پائے گا جس طرح مسلم حکمراں کے خلاف خروج نا جائز ہے، کیوں کہ باعتبار جام دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

حدیث میں بتایا گیا ہے کہ حکمراں کے خلاف خروج اس وقت تک جائز نہیں جب تک اقامت صلوٰۃ میں وہ کوئی رکاوٹ نہ ڈال رہے ہوں۔ اس حدیث میں صلاۃ کی اجازت کا ذکر در اصل

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page