غیر مسلم حکمران کا معاملہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۸
مذہبی آزادی کی علامت کے طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام کو جب تک عبادت اور قول و عمل کی آزادی حاصل ہے، ان کو اپنے حکمرانوں کے خلاف سیاسی معزولی کی تحریک چلانا جائز نہیں، خواہ وہ حکمراں مسلم ہو یا غیر مسلم۔
موجودہ زمانہ میں تمام غیر مسلم حکومتوں میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے سوا وہ ہر مذہبی سرگرمی کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ ایسی حالت میں ان ملکوں میں سیاسی حکمراں کے خلاف تحریکیں چلانا سراسر ناجائز فعل ہے۔ اس قسم کی سیاسی ہنگامہ آرائی، خواہ وہ اسلام کے نام پر کی جائے، یقینی طور پر وہ غیر اسلامی قرار پائے گی۔
مذکورہ احادیث اور شرعی حکم کے مطالعہ سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک حکمراں کے اندر اگر غلطی یا نا انصافی دکھائی دے تو اصلا جس چیز کا جواز ہو گا وہ قولی نکیر ہے۔ یعنی لفظی تنقید کی صورت میں اظہار رائے۔ اور وہ بھی عوامی تقریر کی صورت میں نہیں بلکہ تنہائی کی ملاقات میں، جیسا کہ بزرگ صحابی عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ اگر تم کو ضروری کچھ کہنا ہو تو ایسی مجلس میں ہو جس میں صرف تم ہو اور وہ (فان كنت لابد فاعلاً ففيما بينك وبيند)
موجودہ زمانہ میں کئی ایسے غیر مسلم ملک ہیں جن کے بارہ میں مسلم پریس روزانہ ظلم و زیادتی کی داستان سناتا رہتا ہے۔ یہ طریقہ شریعت کے مطابق تطفیف ہے، اور تطفیف کو قرآن میں نہایت برا فعل بتایا گیا ہے۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان غیر مسلم ملکوں میں ظلم و زیادتی کے واقعات کب شروع ہوئے۔ جب آپ اس اعتبار سے جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ مسلمانوں کے سیاسی جہاد کے بعد کے واقعات ہیں نہ کہ پہلے کے واقعات۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کو پوری طرح مذہبی آزادی حاصل تھی۔ وہ امن کے ساتھ وہاں زندگی گزار رہے تھے۔ مگر جب وہاں جہاد کے نام پر ”گن کلچر کو فروغ دیا گیا تو اس کے بعد وہاں کے حکمرانوں نے بھی تشدد کا جواب تشدد سے دینا شروع کیا۔ ایسی حالت میں ان مظالم کی اصل ذمہ داری ان انتہا پسند مسلم لیڈروں پر عائد ہوتی ہے جو اپنی مخالفانہ کارروائیوں سے اس کا سبب بنے۔ حدیث میں ہے کہ ان الفتنة نائمۃ لعن الله من يقطها۔ اس حدیث کے مطابق، اصل مجرم موقظ فتنہ ہے نہ کہ صاحب فتنہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues