Al-Risala · October 1995 · page 22

ایک شبہ کا ازالہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲

1- پیغمبر دنیا میں خلیفۃ اللہ بن کر آئے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ خدا باغیوں کو زیر کر کے خدا کی دنیا میں خدا کے قانون کی حکومت قائم کریں۔

۲۔ خدا نے پیغمبروں کو اس لیے بھیجا تا کہ وہ حیات انسانی کے بارے میں خدا کے منصوبے سے لوگوں کو آگاہ کر دیں۔ یعنی یہ منصوبہ کہ موجودہ دنیا آزمائش گاہ ہے۔ کوئی شخص اس دنیا میں جیسا عمل کرے گا اس کے کے مطابق وہ آئندہ آنے والی ابدی دنیا میں سزا یا انعام پائے گا۔

۳۔ تیسرا نقطہ نظر تطبیقی نقطہ نظر ہے۔ اس کے مطابق، مذکورہ دونوں تعبیر میں صرف ترتیب کا فرق ہے۔ دوسرا نظریہ اسلامی دعوت کے آغاز کو بتاتا ہے اور پہلا نظریہ اسلامی دعوت کے اختتام کو بتا رہا ہے۔

مگر قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان میں سے صرف دوسرا نقطہ نظر صحیح ہے۔ تمام متعلقہ نصوص سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ پہلے اور تیسرے نقطہ نظر کے لیے قرآن و سنت میں کوئی براہ راست نص موجود نہیں۔ ان حضرات کا استدلال صرف استنباط پر قائم ہے، اور اسلامی دعوت کا نشانہ متعین کرنے کے لیے استنباطی دلیل ہرگز کافی نہیں ہو سکتی۔

اسلامی دعوت اصلاً یہی ہے کہ تخلیق کے خدائی منصوبے سے لوگوں کو باخبر کیا جائے ۔ اور اس کی بنیاد پر افراد کے اندر ذہنی انقلاب لانے کی کوشش کی جائے۔ اصل دعوتی عمل یہی ہے۔ تاہم ہر اجتماعی عمل کے بہت سے ضمنی نتائج ہوتے ہیں، اسی طرح دعوتی عمل کے بھی ضمنی اور اضافی نتائج ہیں۔ انھیں اضافی نتائج میں سے ایک اہل ایمان کی حکومت قائم ہونا ہے۔ تاہم حکومت اسلامی کا قیام اسلامی دعوت کا براہ راست نشانہ نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر منحصر ہے۔ اللہ اپنے مصالح کے تحت کبھی ایک کے حق میں اور کبھی دوسرے کے حق میں استخلاف فی الارض کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس موضوع کی مزید تفصیل راقم الحروف کی حسب ذیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ تعبیر کی غلطی، الاسلام، دین کامل ، راہ عمل، احیاء اسلام، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page