ایک شبہ کا ازالہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱
زندگی کا سفر کبھی نقطہ اختتام سے شروع نہیں ہو سکتا۔ زندگی کا سفر جب بھی شروع ہوگا، ابتدائی نقطہ سے شروع ہوگا۔ زندگی میں کامیاب سفر کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کو نقطہ آغاز مل جائے۔ صحیح نقطہ آغاز مل جانے کے بعد منزل پر پہنچنا اتناہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا تاریک شام کے بعد روشن صبح کا نکلنا۔ تعبیر کا مسئلہ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام میں یہ جائز نہیں کہ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ان کے خلاف جنگ برپا کی جائے تو ایسا کیوں ہے کہ آج ساری دنیا میں مسلمان اسی قسم کے سیاسی ہنگامے برپا کیے ہوئے ہیں۔ اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ زمانہ کے ان مسلم مفکرین پر ہے جنہوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ نشانہ دیا کہ وہ تمام مخالف طاقتوں سے لڑاکر ساری دنیا میں اسلام کا اقتدار قائم کریں۔ ۔
حدیث کے الفاظ میں، اسلامی دعوت کا نشانہ یہ تھا کہ قلب انسانی کو بدلا جائے۔ مگر اس تعبیر نے انتہائی غلط طور پر نظام سیاسی کی تبدیلی کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنا دیا۔ اور اس غلط تعبیر نے ایک ناجائز کام اسلام کا اعلیٰ و ارفع مطلوب قرار دے دیا۔ چنانچہ اب تمام لوگ ارباب اقتدار سے اپنا سر ٹکرارہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔
قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ فکر انسانی میں کبھی ایسا بگاڑ بھی آسکتا ہے کہ لوگ سراسر ایک عبث کام کریں اور بطور خود یہ سمجھیں کہ وہ بہت بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں (الکہف) یہی موجودہ زمانہ میں ان نام نہاد انقلابی مسلمانوں کا حال ہے۔ نا اہل رہنماؤں کی تزئین کے نتیجہ میں ان کا فکر اس طرح بگڑ گیا ہے کہ اب انہیں اسلام کا اصل دعوتی کام کمتر دکھائی دیتا ہے، اور وہ کام انہیں بڑا دکھائی دیتا ہے جس کو بطور خود انہوں نے اسلامی انقلاب کا نام دے رکھا ہے۔
اس کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ موجودہ مسلم نسلوں کے ذہن کو درست کیا جائے۔ ان کے اندر انقلابی فکر کے بجائے اصلاحی فکر پیدا کیا جائے۔ ان کے اندر سیاست رخی سوچ کی جگہ آخرت رخی سوچ لائی جائے ۔ ان کو نام نہاد انقلابی فکر کے بجائے سچے ربانی فکر پر کھڑا کیا جائے۔ اسلام کی تعبیر موجودہ زمانہ میں تین طریقوں سے کی گئی ہے۔ یہ تینوں تعبیرات مختصر انداز میں حسب ذیل ہیں :
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues